بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جنگِ عظیم اوّل کی یادگارمحفوظ جگہ منتقل کی جا رہی ہے، سی ڈی اے

اسلام آباد(نیوزڈیسک) جنگِ عظیم اوّل کی یادگار مسمار نہیں کی گئی، محفوظ مقام پر منتقل کی جا رہی ہے۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جنگِ عظیم اوّل (WWI) کی تاریخی یادگار سے متعلق پھیلنے والی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یادگار کو مسمار نہیں کیا گیا بلکہ اسے تحفظ اور بہتر دیکھ بھال کے لیے ایک موزوں، محفوظ اور عوامی رسائی والے مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔سی ڈی اے کے مطابق یہ اقدام مسماری نہیں بلکہ تحفظ کے ذریعے منتقلی (Preservation through Relocation) ہے۔ یادگار کو ماہرین کی نگرانی میں تحفظاتی اصولوں کے تحت نہایت احتیاط سے کھولا گیا ہے، جبکہ اصل اینٹیں اور تعمیراتی مواد محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ اسے اسی اصل حالت میں دوبارہ تعمیر کیا جا سکے۔اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یادگار وقت کے ساتھ خستہ حال ہو چکی تھی، جس کے باعث اس کی باوقار دیکھ بھال، تحفظ اور طویل المدتی نگہداشت کے لیے مقام کی تبدیلی ناگزیر تھی۔سی ڈی اے نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ یادگار محکمہ آثارِ قدیمہ کی باقاعدہ نوٹیفائیڈ ورثہ فہرست میں شامل نہیں، تاہم اس کے باوجود محکمہ آثارِ قدیمہ سے مشاورت کی گئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ یادگار کے قانونی وارث کی باقاعدہ رضامندی بھی حاصل کی گئی، جہاں عظیم پوتے کی جانب سے حلف نامہ / این او سی جمع کرایا گیا، جس کے بعد یادگار کو منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔سی ڈی اے کی نگرانی میں یادگار کو ریہارا گاؤں کے قریب نادرن بائی پاس کے راؤنڈ اباؤٹ کے نزدیک ایک زیادہ محفوظ اور نمایاں مقام پر دوبارہ نصب کیا جائے گا، تاکہ عوام کو آسان رسائی حاصل ہو اور تاریخی شخصیت کو بہتر انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔اتھارٹی کے مطابق ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی عمارتوں یا یادگاروں کی منتقلی ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ عمل ہے، جس کی مثالیں امریکہ میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس، لندن میں ماربل آرچ اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرِ نو تعمیر کی صورت میں موجود ہیں۔سی ڈی اے نے زور دیا کہ یہ تاریخی یادگار بدستور سب غلام علی کی جنگِ عظیم اوّل میں جرات و بہادری اور انہیں ملنے والے ملٹری کراس کو خراجِ تحسین پیش کرتی رہے گی، اور اس کی تاریخی حیثیت مکمل طور پر برقرار ہے۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ یادگار کی ’’مسماری‘‘ سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ یہ اقدام ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے تحفظ کی ایک مثال ہے۔سی ڈی اے نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ خبر شائع کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کریں، جبکہ سنسنی خیز اور گمراہ کن خبروں کو بغیر تحقیق شائع کرنا غیر ذمہ دارانہ صحافت کے زمرے میں آتا ہے، جسے دانستہ غلط معلومات اور جعلی خبروں کے طور پر دیکھا جائے گا۔