نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ کے دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے جہاں روزانہ درجنوں افراد کے لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ مودی حکومت کی ناقص حکمرانی اور ریاستی مشینری کی ناکامی کے باعث بھارتی دارالحکومت دہلی خواتین اور بچوں کے لیے غیر محفوظ شہر بنتا جا رہا ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 کے پہلے پندرہ دنوں میں دہلی سے 807 افراد لاپتہ ہوئے، جن میں 509 خواتین شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والوں میں 191 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جس سے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس بھی دہلی سے ساڑھے 24 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہوئے تھے، جن میں 60 فیصد سے زائد خواتین تھیں۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ہندوتوا نظریے کے زیر اثر حکومت عوامی تحفظ اور بنیادی مسائل کے حل کے بجائے انتہا پسندی کے ذریعے اقتدار مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے خطے پر حکمرانی کے غیر حقیقی دعوے بھارت میں خواتین اور کمزور طبقات کے خلاف بڑھتے جرائم نے خود ہی بے نقاب کر دیے ہیں۔ بھارت کو گزشتہ برسوں میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کے باعث ’’ریپ کیپٹل آف دی ورلڈ‘‘ بھی قرار دیا جا چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دہلی سمیت بڑے شہروں میں بڑھتا ہوا تشدد اور لاپتہ افراد کے واقعات ریاستی نگرانی کی کمزوری اور ادارہ جاتی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بھارت کے معاشرتی ڈھانچے اور عالمی ساکھ کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔









