بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران، سفارتکاری پہلی ترجیح، طاقت کا آپشن بھی موجود، وائٹ ہاؤس

 

واشنگٹن(نیوزڈیسک)وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاملات میں سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے نتیجے کا انتظار کریں گے، تاہم امریکا کے پاس فوجی آپشنز بھی موجود ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمان میں ہونے والے مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اتحادیوں اور مخالفین دونوں کے ساتھ معاملات میں سفارت کاری کو پہلا راستہ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ایران سے متعلق اپنے مطالبات میں واضح رہے ہیں اور “صفر جوہری صلاحیت” ان کی بنیادی شرط ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کے دوران کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو صدر کے پاس دیگر آپشنز بھی ہیں، بطور کمانڈر ان چیف دنیا کی طاقتور ترین فوج کے ساتھ۔

ایران اور امریکا کے درمیان آج یعنی جمعے کو عمان میں مذاکرات ہونے ہیں، حالانکہ ایجنڈے پر اختلافات نے کسی معاہدے کے امکانات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بات چیت میں ایران کے میزائل پروگرام اور دیگر علاقائی معاملات بھی شامل ہوں، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس اختلاف کو دور کر لیا گیا ہے یا نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعرات کو عمان روانہ ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران “اختیار اور سنجیدگی کے ساتھ” ایک منصفانہ اور باوقار معاہدے کے مقصد سے مذاکرات میں شریک ہوگا، اور امید ظاہر کی کہ امریکی فریق بھی ذمہ داری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گا۔

ادھر مذاکرات سے ایک روز قبل ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ خرمشہر-4 نامی جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل پاسدارانِ انقلاب کے ایک زیرِ زمین اڈے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میزائل کی رینج 2,000 کلومیٹر ہے اور یہ 1,500 کلوگرام وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا ایران پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے میزائلوں کی رینج نمایاں طور پر محدود کرے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کو نئے تنازع میں بدلنے سے روکنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی خلیجی دورے کے دوران ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی پر “شدید تشویش” کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو “برے نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔ اس دوران امریکا نے خطے میں ہزاروں اضافی فوجی، طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایران ان کی سرزمین پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔