وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں حالیہ دھماکے کا ماسٹر مائنڈ داعش سے وابستہ ایک افغان شہری ہے، جس کے ساتھ کل چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمعے کی رات آپریشن کر کے ماسٹر مائنڈ اور اس کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔ اس کارروائی کے دوران ایک پولیس اے ایس آئی ہلاک اور تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
وزیر داخلہ کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہوئی، دو افراد نے ریکی کی اور حملہ آور کو افغانستان سے پاکستان لایا گیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی بیشتر کارروائیاں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی اور داعش سے مربوط ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کمیونٹی انٹیلی جنس میں تعاون کریں تاکہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکنے میں مدد ملے۔
وزیر داخلہ نے دہشت گردوں کی جدید اسلحہ استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ان سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو اپڈیٹ کرنا ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی فنڈنگ اور منصوبہ بندی بھارت سے ہو رہی ہے، اور اہداف فراہم کرنے کے لیے مالی امداد بھی بڑھائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ بھارت نے اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندرونی سماجی مسائل کو حل کیے بغیر دوسرے ممالک پر الزام تراشی کرنا درست نہیں۔
اسلام آباد حملے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری، چار افراد حراست میں: وزیر داخلہ محسن نقوی








