بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سردار اختر مینگل: ہمیں غدار کہا گیا، ملک توڑنے والوں کو سزا نہیں ملی

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل پر سپریم کورٹ جانے، پارلیمنٹ میں تقریریں کرنے اور سیمینارز میں تجاویز دینے کے باوجود انہیں غدار قرار دیا گیا، جبکہ ملک کو توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملی۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت کے اقدامات کی مذمت کی اور کہا کہ 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں مصنوعی قیادت قائم کی گئی، جس کے خلاف آج احتجاج ہو رہا ہے۔
اختر مینگل نے مزید کہا کہ اگر احتجاج کیا جائے تو سیاسی کارکنوں کو ایسے ہی سزا دی جاتی ہے جیسے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی کو ایک ٹویٹ پر 17 سال قید ہوئی، لیکن ملک کو توڑنے والوں کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جنہیں حکومت دہشت گرد کہتی ہے، انہیں 31 جنوری کو عوام نے گلے لگا کر سیلفیاں بنائیں، اور یہ منظر اہل پنجاب کے لیے سوچنے کا موقع ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، بلوچستان کے لوگ اکثر اپنے مسائل کے حل کے لیے رہنماؤں کو ویلکم کرتے ہیں، لیکن حکومت نے نفرت کی دیواریں کھڑی کر دی ہیں، جو آج تک نہیں ٹوٹیں۔
اختر مینگل نے واضح کیا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے ان کے پاس کوئی فوری نسخہ نہیں، تاہم انہوں نے سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور سیمینارز میں تجاویز پیش کیں، لیکن بدلے میں انہیں غدار کہا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان اب “پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچ چکا ہے اور اس کی ذمہ داری ریاست پر ہے۔ سردار اختر مینگل نے کہا:1973 میں جو نعرے لگائے گئے تھے، آج وہی نعرے دوبارہ گونج سکتے ہیں۔
یہ بیان بلوچستان کے مسائل، سیاسی ناانصافی اور حکومت کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔