اٹلی میں جاری ونٹر اولمپکس میں پوڈیم پر آنے والے کھلاڑیوں کو اولمپک تاریخ کے سب سے مہنگے میڈلز دیے جائیں گے۔ یہ مہنگائی اس لیے نہیں کہ تمغوں کا وزن زیادہ ہے، بلکہ حالیہ برسوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس کی وجہ ہے۔
اس کھیل کے دوران اسکیئنگ، آئس ہاکی، فگر اسکیٹنگ اور کرلنگ سمیت مختلف مقابلوں میں حصہ لینے والے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو مجموعی طور پر 700 سے زائد سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے دیے جائیں گے۔ مالی لحاظ سے یہ تمغے پہلے سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں، جبکہ ان کی جذباتی اہمیت ہمیشہ بے مثال رہے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق جولائی 2024 کے بعد سے سونے کی قیمت تقریباً 107 فیصد اور چاندی کی قیمت 200 فیصد بڑھ چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب ایک سونے کے تمغے کی قیمت تقریباً 2,300 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو پیرس اولمپکس کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ چاندی کے تمغے کی مالیت تقریباً 1,400 ڈالر تک ہو گئی ہے، جو دو سال قبل کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک گولڈ میڈل کا مجموعی وزن 506 گرام ہوتا ہے لیکن اس میں صرف 6 گرام خالص سونا شامل ہوتا ہے، جبکہ باقی وزن چاندی کا ہوتا ہے۔ کانسی کے تمغے عام طور پر تانبے سے بنائے جاتے ہیں اور 420 گرام وزنی یہ تمغے صرف تقریباً 5.60 ڈالر مالیت کے ہیں، مگر اب قیمتیں بڑھنے سے ان کی مالی اہمیت بھی نمایاں ہو گئی ہے۔
سونے کی قیمت میں اضافہ بڑے مرکزی بینکوں کے ذخائر بڑھانے اور عالمی سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہوا، جبکہ چاندی میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی ایک بڑی وجہ بنی۔
توقع کی جا رہی ہے کہ 2028 کے سمر اولمپکس کے لیے تیار کیے جانے والے سونے اور چاندی کے تمغے اس ونٹر اولمپکس کے مقابلے میں مزید مہنگے ہوں گے۔
اٹلی ونٹر اولمپکس میں اولمپک تاریخ کے مہنگے ترین میڈلز پیش کیے جائیں گے








