بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نوشکی میں مزدوری کے لیے بھیجے گئے ایک ہی خاندان کے چار نوجوان ہلاک: غربت اور مجبوری کی کہانی

سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے اوباڑو کے رفیق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ غربت اور مجبوری کی وجہ سے انہوں نے اپنے خاندان کے چار نوجوان بچوں کو سینکڑوں میل دور بلوچستان میں مزدوری کے لیے بھیجا، لیکن بدقسمتی سے وہ سب اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔
رفیق احمد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ان کے تین بھتیجے اور ایک کزن کا بیٹا شامل تھے، جن کی عمر 17 سے 20 سال کے درمیان تھی اور سب نابالغ اور غیر شادی شدہ تھے۔ ان میں سجاد حسین اور شہزاد حسین سگے بھائی تھے، غلام عباس ان کے دوسرے بھائی کے بیٹے، اور چوتھے نوجوان کامران ان کے چچا زاد بھائی تھے۔
چاروں نوجوان تین ماہ قبل سندھ کے ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بلوچستان کے ہوشاپ اور پھر کوئٹہ کے راستے نوشکی میں ڈگری کالج کی تعمیراتی کاموں میں مزدوری کے لیے گئے تھے۔ رفیق احمد نے بتایا کہ 31 جنوری کو شدت پسندوں کے حملوں کے بعد جب وہ اپنے بچوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تو فون مسلسل بند تھے۔ بعد ازاں ٹھیکیدار سے رابطہ کرنے پر ان کی موت کی تصدیق ہوئی۔
رفیق احمد کا کہنا تھا، “ہم غریب تھے اور یہاں روزگار کے مواقع نہیں تھے، اسی لیے بچوں کو دور مزدوری کے لیے بھیجا، لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ کفن میں لوٹیں گے۔”
نوشکی میں واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس شے حق بلوچ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے نو افراد میں سے پانچ کی شناخت سندھ سے ہوئی، اور تین روزہ جھڑپوں کی وجہ سے لاشیں فوری طور پر ان کے آبائی علاقوں کو نہیں پہنچائی جا سکیں۔ انتظامیہ کے مطابق ان پانچ لاشوں کو بعد میں سندھ بھیج دیا گیا۔
یہ افسوسناک واقعہ غربت، محدود وسائل اور سکیورٹی چیلنجز کے سنگین اثرات کا ایک المیہ منظر پیش کرتا ہے، جہاں نوجوان اپنے خاندان کی کفالت کے لیے قربانیاں دیتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔