فلوریڈا میں اپنے مار-اے-لاگو ریسورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہونڈوراس کے نئے صدر نسری اسفورا سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے اس موقع پر اسفورا کو اپنا “دوست” قرار دیا اور امریکہ اور ہونڈوراس کے درمیان مضبوط تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہونڈوراس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہتے ہیں، جس کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت پر قابو پانا ہے۔ اسفورا نے حال ہی میں انتخابی فتح کے بعد اقتدار سنبھالا تھا اور ٹرمپ نے ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔
اجلاس کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک مل کر خطرناک منشیات کے کارٹیلوں اور گینگ ممبروں کے خلاف کام کریں گے اور غیر قانونی تارکین وطن کو ریاستہائے متحدہ سے واپس بھیجنے میں تعاون کریں گے۔
ہونڈوراس کے مقامی میڈیا کے مطابق، اسفورا جلد اپنے ملک میں میڈیا کو اجلاس کی تفصیلات فراہم کریں گے، جس میں زیر بحث موضوعات اور ممکنہ نتائج شامل ہوں گے۔
اس ملاقات نے ٹرمپ کو لاطینی امریکہ میں ایک اور قدامت پسند حلیف فراہم کیا ہے، جہاں حالیہ انتخابات میں کئی بائیں بازو کی حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں، جیسے کہ چلی، بولیویا، پیرو اور ارجنٹائن۔
انتخابات سے پہلے ٹرمپ نے ہونڈوراس کے سابق صدر جوآن اورلینڈو ہرنینڈز کو معاف کیا، جو اسفورا کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات میں امریکہ میں 45 سال کی سزا بھگت رہے تھے۔ یہ قدم نئے صدر کے ساتھ امریکی یکجہتی کا اظہار سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ یہ فیصلے بیرون ملک منشیات کیخلاف کارروائیوں میں امریکی پالیسی پر بحث بھی کھڑی کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے مار-اے-لاگو میں ہونڈوراس کے صدر اسفورا کا استقبال کیا








