بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غزہ کی تعمیرِ نو یا خاموش منتقلی؟

غزہ کی تعمیرِ نو بظاہر امید کی علامت دکھائی دیتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ عمل فلسطینیوں کی بحالی کے بجائے ایک نئی قسم کے دباؤ اور کنٹرول کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ تعمیرِ نو کو ایک ’’خاموش ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے غزہ کی روزمرہ زندگی، سیاست اور آبادیاتی مستقبل کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیریڈ کشنر نے ’’نئے غزہ‘‘ کا خواب پیش کیا، جہاں فلک بوس عمارتیں، سیاحتی مراکز اور معاشی ترقی دکھائی گئی۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ غزہ اس وقت تقریباً 6 کروڑ 10 لاکھ ٹن ملبے تلے دبا ہوا ہے اور ایک اینٹ تک رکھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کا 92 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے اور تعمیرِ نو پر کم از کم 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ مگر سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر بنیادی تعمیراتی سامان کی آمد بدستور روکی ہوئی ہے۔
تجزیہ کار ایہاب جبرین کا کہنا ہے کہ تعمیرِ نو دراصل جنگ کے بعد کا مرحلہ نہیں بلکہ جنگ کا تسلسل ہے، جو بیوروکریسی اور معیشت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل تعمیراتی مواد کو ’’سیاسی دباؤ‘‘، ’’سیکیورٹی کنٹرول‘‘ اور ’’خاموشی کے بدلے سہولت‘‘ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تعمیرِ نو کو اس انداز میں مشروط کیا جا رہا ہے کہ غزہ مکمل طور پر اسرائیلی منظوری کا محتاج بن جائے۔ کون حکومت کرے گا، کس کو امداد ملے گی اور کہاں تعمیر ہو گی—یہ سب فیصلے تعمیراتی اجازت ناموں سے جوڑے جا رہے ہیں۔
فلسطینی ماہرین نے بیرونی اور بالا سے مسلط منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے مقامی سطح پر تیار کیے گئے ’’فینکس پلان‘‘ کی حمایت کی ہے، جس میں ملبے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر زمین اور زندگی کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو عوام کے بغیر ممکن نہیں۔
تاہم سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل کی ’’دوہری استعمال‘‘ کی فہرست ہے، جس کے تحت سیمنٹ سے لے کر پانی کے فلٹر اور حتیٰ کہ کینسر کی ادویات تک کو روکا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اب سیکیورٹی کا نہیں بلکہ حکمرانی کا طریقہ بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل تاخیر، پیچیدہ اجازت نامے اور غیر یقینی حالات دراصل وقت کو ایک ہتھیار میں بدل رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بمباری لوگوں کو بے گھر نہ کر سکی تو طویل انتظار اور ناامیدی شاید یہ کام کر دکھائے۔
یوں غزہ کی تعمیرِ نو ایک انسانی ضرورت کے بجائے سیاسی سودے بازی، خاموش دباؤ اور مستقبل کی انجینئرنگ کی علامت بنتی جا رہی ہے۔