آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے معاملات پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو آئی سی سی کے جوابی ردعمل کا انتظار ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان بھارت میچ کے لیے لاہور کی میٹنگ کے بعد آئی سی سی کا جواب اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
معاملات کے حل کے لیے پاکستان اور بنگلادیشی حکام نے بال آئی سی سی کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔
ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ میٹنگ منٹس آئی سی سی چیئرمین جے شاہ اور چیف ایگزیکٹو سنجو گپتا سے شئیر کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ ایشو پر بریک تھرو آئی سی سی کے جواب سے مشروط ہے۔
پاکستان نے آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ میٹنگ میں پاکستان نے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا، بنگلادیش کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔
محسن نقوی نے بنگلادیش کو کرکٹ میں برابری کا حصہ دار بنانے کی بات کی اور بھارتی ٹیم کا دورہ بنگلادیش ستمبر میں یقینی بنانے پر زور دیا۔
پاکستان کا مطالبہ تھا کہ بنگلادیش کو ورلڈکپ کی آمدنی سے پورا حصہ دیا جائے اور آئی سی سی بنگلادیش کرکٹ ٹیم اور شائقین سے معذرت کرے۔
پاکستان نے مزید مطالبہ کیا کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ چیمپئن شپ میچز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے اور بنگلادیش کو کسی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی دے کر زیادتی کا ازالہ کیا جائے۔
میٹنگ میں آئی سی سی سے ضمانے مانگی گئی کہ حکومتی فیصلے پر کسی بھی بورڈ ممبر کو بنگلادیش کی طرح ورلڈکپ سے باہر نہیں کیا جائے گا اور کھیل میں بھارتی اجارہ درای کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
آئی سی سی میں بڑھتے بھارتی اثر و رسوخ کی جگہ میرٹ پر فیصلوں کو یقینی بنایا جائے۔ بھارت کو جینٹلمین گیم کی روایات اور اصولوں پر مکمل عمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔









