بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیٹ میٹرنگ قوانین میں ترامیم پاور سیکٹر اصلاحات، ریگولیٹری اعتماد کےلئے خطرہ ہے : ڈاکٹر خالد ولید

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بجلی کے شعبے میں مالی دباو کو سامنے رکھ کر کئے گئے فیصلے طویل المدتی منصوبہ بندی، ریگولیٹری خودمختاری اور شمسی توانائی کے موثر استعمال کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔نئی نیٹ میٹرنگ ترامیم ایک عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہے جو مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ نیپرا میں اس وقت دو اہم عہدے خالی ہیں، ایسے میں اگر دور رس معاشی اور سرمایہ کاری اثرات رکھنے والے فیصلے ادارہ جاتی مشاورت کے بغیر کئے جائیں تو یہ ریگولیٹری عمل کی ساکھ کو کمزور کرنے اورسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کو متاثر کرنے کا سبب بنیں گے۔ بجلی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات عارضی فیصلوں سے ممکن نہیں۔ یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے نیٹ میٹرنگ کے حالیہ ترمیم شدہ قوانین پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ نئی نیٹ میٹرنگ ترامیم طریقہ کار، مواد اور پالیسی سوچ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ فیصلے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے بجائے وقتی مالی دباو کو سامنے رکھ کر کئے گئے ہیں جن سے طویل المدت منصوبہ بندی، ریگولیٹری خودمختاری اور شمسی توانائی کے موثر استعمال کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ نئی نیٹ میٹرنگ ترامیم کو بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک عجلت میں کیا گیا فیصلہ محسوس ہوتا ہے، جو مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ڈاکٹر خالد ولید نے مذید کہا کہ اس فیصلے کا وقت اور طریقہ دونوں تشویشناک ہیں۔ نیپرا میں اس وقت دو اہم عہدے خالی ہیں، ایسے میں ادارہ جاتی مشاورت کے بغیر کئے گئے فیصلوں سے ریگولیٹری عمل کی ساکھ کمزورہوگی بلکہ اس کا اثر سٹیک ہولڈرز کے اعتماد پر بھی پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ان ترامیم سے ریگولیٹر کی خودمختاری پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ نیٹ میٹرنگ اب صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کا براہِ راست تعلق گھریلو صارفین کے اخراجات، سرمایہ کاری کے فیصلوں، صنعت کی مسابقت اور بجلی کے نظام کی معیشت سے جڑا ہے۔ انہوں نے قرار دیا کہ فیصلے وقتی انتظامی دباو کے بجائے آزاد اور شواہد پر مبنی تجزیے کے تحت ہونے چاہئیں۔ڈاکٹر خالد ولید نے واضح کیا کہ پاکستان کے بجلی کے شعبے کا بحران بنیادی نوعیت کا ہے جو مہنگے کیپیسٹی چارجز، طویل المدت معاہدوں، ڈالر سے منسلک ٹیرف اور بجلی کی بلند قیمتوں کے باعث کم ہوتی طلب کی وجہ سے پیدا ہوا ہے نیٹ میٹرنگ نے مسائل پیدا نہیں کئے صرف بے نقاب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کو مسئلہ قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے بخار کا الزام تھرمامیٹر پر ڈال دیا جائے۔انہوں نے نیشنل الیکٹرسٹی پلان 2023-2027 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصدصارفین کو سزا دینا یا شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کرنا نہیں بلکہ بجلی کو سستا بنانا، طلب میں اضافہ، نظام کی بہتری اور گرڈ کو جدید بنانا ہے۔ڈاکٹر خالد ولید نے زور دیا کہ نیٹ میٹرنگ کو مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی اثاثہ سمجھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان کو دستیاب ترقیاتی فنڈنگ کو نئی بجلی پیدا کرنے کے بجائے گرڈ کی بہتری، جدید میٹرنگ، اسٹوریج اور ترسیلی نظام پر خرچ کیا جانا چاہئے۔ نیٹ میٹرنگ کے پھیلاو کے بعد اصل مسئلہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ نظام کی لچک اور جدید کنٹرول ہے۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کو سماجی تحفظ اور مالی اصلاحات سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے وعدوں کے تحت اگر کم آمدنی والے صارفین کو سبسڈی کے بجائے شمسی نظام فراہم کئے جائیں تو ان کے بجلی کے اخراجات مستقل طور پر کم ہو سکتے ہیں اور حکومت پر مالی بوجھ بھی گھٹ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تقسیم شدہ شمسی توانائی کو فرسودہ کوئلے کے بجلی گھروں کو مرحلہ وار بند کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔ بعض مقامات پر بجلی گھروں کو بیٹری سسٹمز، میں تبدیل کر کے نظام کی بہتری اور ماحولیاتی اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ موجودہ ترامیم وقتی اور ظاہری ریلیف تو دے سکتی ہیں، لیکن بجلی کے شعبے کے اصل مسائل کو حل نہیں کرتیں۔ ان میں اضافی پیداواری صلاحیت، مہنگے معاہدوں، طلب میں کمی اور معاشی ترقی سے ہم آہنگ ٹیرف جیسے بنیادی مسائل کا کوئی واضح حل موجود نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ان فیصلوں سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، صارفین کی سزا اور توانائی کے ایک مضبوط اور جدید نظام کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات عارضی فیصلوں سے ممکن نہیں اس کے لئے شفاف فیصلہ سازی، مکمل ادارہ جاتی ڈھانچہ، ریگولیٹری خودمختاری کا احترام اور بنیادی مسائل کا براہِ راست سامنا کرنا ہوگا۔