بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غیرقانونی سرگرمیوں اوربدامنی میں ملوث افغان مہاجرین کےگردگھیرامزید تنگ

انقرہ (نیوز ڈیسک)غیرقانونی سرگرمیوں اور بدامنی میں ملوث افغان مہاجرین کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے، جبکہ طالبان رجیم کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کے باعث افغان مہاجرین مختلف ممالک کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں جاری عدم استحکام اور دہشت گرد عناصر کی موجودگی بھی ہمسایہ اور دیگر ممالک کے لیے مسلسل خطرات کا باعث بن رہی ہے۔

ترکیہ اور افغان خبر رساں اداروں کے مطابق غیرقانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 18 افغان مہاجرین کو ترکیہ کے سرحدی شہر ایڈرنے سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہیں ملک بدری کے لیے مائیگریشن مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترک خبر ایجنسی انادولو ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی غیرقانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ تھی، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں غیرقانونی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

دوسری جانب ترک ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائیگریشن مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائیگریشن مینجمنٹ کے مطابق گزشتہ سال ترکیہ بھر میں 42 ہزار سے زائد غیرقانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ان میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو یورپ پہنچنے کی ناکام کوشش کے دوران پکڑے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک افغانستان میں پائیدار استحکام، مؤثر حکمرانی اور شدت پسند عناصر کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک افغان مہاجرین کا بحران نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنتا رہے گا۔ ان کے مطابق ایک طرف طالبان رجیم دہشت گردی میں ملوث گروہوں کو روکنے میں ناکام ہے تو دوسری جانب غیرقانونی افغان مہاجرین میزبان ممالک کے لیے سیکیورٹی اور معاشی دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر غیرقانونی افغان باشندوں کی بڑھتی ہوئی گرفتاریاں اور ملک بدری دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موقف کی تائید کے مترادف ہیں، جس میں واضح کیا جاتا رہا ہے کہ سرحد پار عدم استحکام اور غیرقانونی نقل و حرکت پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔