اسلام آباد:(نیوزڈیسک) امریکی سابق فوجی افسر اور دفاعی تجزیہ کار جو بوکینو نے اپنے تحقیقی مضمون میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے اسے محض علیحدگی پسند گروہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سنگین دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔امریکی جریدے دی ریئل کلیئر ورلڈ میں شائع رپورٹ کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کو صرف علیحدگی پسند تحریک کہنا ایک فرسودہ اور غلط تصور ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاسی محرومیوں سے جنم لینے والی یہ تحریک اب جدید طرز کی دہشت گرد تنظیم میں تبدیل ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی ایل اے کا ہدف عام شہری اور قومی انفراسٹرکچر ہیں اور دانستہ حملے اس کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ خوف، عدم استحکام اور ریاستی کمزوری پیدا کرنا اس تنظیم کا بنیادی طریقہ کار بن چکا ہے جبکہ یہ بلوچ عوام کی حقیقی امنگوں اور زمینی حقائق سے بھی کٹ چکی ہے۔تحقیقی مضمون کے مطابق بلوچ عوام کی ترجیح علیحدگی نہیں بلکہ روزگار، بہتر طرز حکمرانی، بدعنوانی کا خاتمہ اور امن ہے۔ مختلف سرویز میں علیحدگی کی حمایت نہ ہونے کے برابر پائی گئی اور اکثریت خود کو پاکستانی شناخت سے جوڑتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں بے چینی کی اصل وجوہات سیاسی شمولیت کی کمی اور کمزور نمائندگی ہیں جبکہ مرکزی دھارے کے بلوچ رہنما آئینی و سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کے حل کے حامی ہیں، اس کے برعکس بی ایل اے عوام سے دور ہے۔مزید بتایا گیا کہ بی ایل اے کی حکمت عملی میں تبدیلی آ چکی ہے اور اب وہ خودکش حملوں اور ہمہ جہت دہشت گردی پر توجہ دے رہی ہے۔ ٹرین ہائی جیکنگ، بیک وقت کئی شہروں میں حملے اور اہم تنصیبات کی تباہی کو خطرناک رجحان قرار دیا گیا ہے جبکہ شہری مقامات، بسیں، تعلیمی ادارے اور عام لوگ بھی نشانے پر ہیں۔
مضمون میں بی ایل اے کو عسکریت اور جرائم کا امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں اس کی فنڈنگ کے ذرائع ہیں۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف گروہوں کے درمیان عملی تعاون دہشت گرد نیٹ ورک کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق چینی شہریوں، بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ روٹس اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانا پاکستان کے خلاف معاشی جنگ کا پہلو ظاہر کرتا ہے جبکہ سرحد پار محفوظ ٹھکانے، اسلحہ اور بیرونی انٹیلی جنس سپورٹ بیرونی کردار کے شواہد ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بی ایل اے کی کارروائیاں بلوچ عوام کے جائز مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں اور پاکستان میں یہ تنظیم ایک علیحدگی پسند تحریک سے کہیں زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔









