افغانستان میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف پرتشدد واقعات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ تازہ واقعے میں صوبہ پکتیکا میں ایک سابق پولیس کمانڈر کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول، جن کی شناخت رمضان کے نام سے ہوئی، چار سال جلاوطنی میں گزارنے کے بعد حال ہی میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے وطن واپس آئے تھے۔ تاہم واپسی کے کچھ عرصے بعد ہی انہیں نشانہ بنا دیا گیا۔ مقامی ذرائع اس قتل کی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد کر رہے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر تفصیلات محدود ہیں۔
سول سوسائٹی کے حلقوں نے اس واقعے کے بعد شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے اعلان کردہ ’’عام معافی‘‘ کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور سابق سیکیورٹی اہلکار بدستور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سابق پولیس اور فوجی افسران کی قبروں کی بے حرمتی اور مسماری کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ معاونت مشن برائے افغانستان (یوناما) کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے آخری تین مہینوں میں کم از کم 14 سابق سیکیورٹی اہلکار پرتشدد واقعات کا نشانہ بنے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے معاشرے میں خوف کی فضا گہری ہو رہی ہے اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو دانستہ طور پر ہدف بنایا جا رہا ہے تاکہ طاقت کے ذریعے کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔
افغانستان میں سابق پولیس کمانڈر قتل، ٹارگٹ کلنگ پر تشویش میں اضافہ








