وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے براہِ راست بات کرنے کی کوشش کی، تاہم چیف جسٹس نے ان کی بات سنے بغیر چیمبر میں چلے جانے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی چیف جسٹس سے بات کے لیے عدالت کے روسٹرم پر پہنچے تھے۔ ان کی جانب سے کہا گیا کہ چیف جسٹس کے سیکرٹری نے انہیں ملاقات کے لیے سیکرٹری کے دفتر آنے کا پیغام دیا، مگر انہوں نے جواب دیا کہ “بانی پاکستان تحریک انصاف کے کیسز عدالت میں نہیں لگ رہے، میں اوپن کورٹ میں بات کروں گا۔”
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ چیف جسٹس سے ملاقات ہو، لیکن جب ملاقات ممکن نہ ہوئی تو اوپن کورٹ میں بات کرنے کی کوشش کی۔ “میں رمضان کے روزے میں روسٹرم پر گیا، چیف جسٹس کو سلام کیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔”
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتقامی سیاست نہیں کرتی۔ “ہم بتانا چاہتے ہیں کہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد ہم پرامن احتجاج کرتے ہیں، جو ہمارا قانونی حق ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایک گھنٹہ انتظار کرنے کے باوجود بھی چیف جسٹس نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کی درخواست دی، لیکن درخواست پر کارروائی نہیں ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو میں وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف تک معالجین اور فیملی کی رسائی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عدالت نے ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا آرڈر دیا، ایک دن وکیلوں کے لیے اور ایک دن فیملی کے لیے۔ تاہم جب وزیراعلٰی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے ملاقات کرانے سے انکار کیا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ بن گئی ہے۔ درخواستیں دائر کی جاتی ہیں لیکن سماعت نہیں ہوتی۔ ٹوئٹر کے حوالے سے بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ایک کیس مقرر ہے، لیکن ملاقات کے بغیر عدالت کاروائی آگے بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے فیصلہ کیا کہ وہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے عدالت میں کھڑے ہو کر اپنا موقف بیان کریں گے۔ کیسز ختم ہونے پر بھی انہوں نے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اب وہ معاملے کو سپریم کورٹ لے جائیں گے اور عمران خان کا مقدمہ پوری قوم اور عوام کے لیے لڑنا پڑے گا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے بات کرنے کی کوشش، جواب نہ ملنے پر چیمبر میں چلے گئے








