بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عدالتی کارکردگی اور ادارہ جاتی وقار کے لیے بلا تعطل توانائی کی فراہمی ناگزیر، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ملک کی عدالتوں میں عدالتی انفراسٹرکچر میں موجود خلا کی فوری نشاندہی اور انہیں جلد مکمل کرنا ضروری ہے تاکہ عدالتی کارکردگی اور ادارہ جاتی وقار کے لیے بلا تعطل اور پائیدار توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت ملک گیر عدالتی انفراسٹرکچر اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی عدالتوں اور بار رومز کی سولرائزیشن پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جوڈیشل ڈیولپمنٹ فنڈ، انڈر ڈیولپڈ ریجنز ونڈوز اور گرانٹ اِن ایڈ کے تحت جاری منصوبوں کی جامع رپورٹ پیش کی گئی۔
پنجاب میں اب تک 56 بار رومز کی سولرائزیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ مزید 47 بار رومز میں کام جاری ہے۔ صوبے کی 62 عدالتوں اور بار رومز میں ای لائبریریز قائم کی جا چکی ہیں اور توسیع کا عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی 47 جوڈیشل کمپلیکسز میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے، 32 ڈے کیئر سینٹرز اور 74 خواتین سہولت مراکز بھی فعال کیے گئے ہیں۔
سندھ میں 65 بار رومز اور 92 عدالتوں کی سولرائزیشن منصوبہ بندی کے تحت جاری ہے، جبکہ 37 بار رومز اور 61 عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کی جا رہی ہیں۔ صوبے کے 28 اضلاع اور 19 تعلقہ سطح پر خواتین سہولت مراکز کے قیام کا عمل بھی جاری ہے۔
خیبر پختونخوا میں 51 بار رومز اور 39 عدالتوں کی سولرائزیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ 66 بار رومز اور 62 عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کی جا چکی ہیں۔ خواتین مرکز منصوبے کی منظوری کے بعد اس کا آغاز سوات اور ہری پور سے کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے تمام 35 سیشن ڈویژنز میں سولرائزیشن کا عمل شروع ہو گیا ہے اور تمام ڈویژنز میں بینچ اور بار کے لیے ای لائبریریز بھی قائم کی گئی ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ہدایت دی کہ عدالتی انفراسٹرکچر میں موجود باقی ماندہ خلا کی فوری نشاندہی کی جائے اور انہیں جلد مکمل کیا جائے، تاکہ عدالتوں میں بلا تعطل اور پائیدار توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔