ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ایک سینئر مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی کمانڈر انچیف کے مشیر ابراہیم جباری نے کہا ہے کہ اگر کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو ایرانی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب اسے تباہ کر دیں گے۔
ایران نے یہ سخت مؤقف اسرائیل اور امریکا کی جانب سے حالیہ فضائی حملوں کے بعد اختیار کیا ہے جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کی شہادت واقع ہوئی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں تہران نے خبردار کیا ہے کہ خطے سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی اور آئل پائپ لائنز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق ابراہیم جباری کا مزید کہنا ہے کہ ایران خطے سے ایک قطرہ تیل بھی باہر نہیں جانے دے گا، ایران کی اس دھمکی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کا دنیا کی اہم ترین سمندری گزر گاہوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کی جاتی ہے، ممکنہ بندش کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
ادھر یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد جبکہ ایشیاء میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے کیونکہ قطر کی توانائی کمپنی نے ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیداوار روک دی ہے۔
سعودی عرب کی رأس تنورا آئل ریفائنری پر بھی ڈرون حملے کی کوشش کی گئی جسے سعودی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا تھا، اس ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 5 لاکھ بیرل سے زائد ہے۔









