بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد: پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ کی گرین سی پیک الائنس کانفرنس، سولر مینوفیکچرنگ میں چینی سرمایہ کاری پر غور

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ نے “گرین سی پیک الائنس” کے تحت ایک ریجنل کانفرنس بعنوان ” آسیان سے پاکستان تک سولر پی وی ویلیو چین مینوفیکچرنگ کے لیے چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ” منعقد کی۔ اس کانفرنس میں پالیسی سازوں اور علاقائی ماہرین نے شرکت کی تاکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک (آسیان) کے سولر مینوفیکچرنگ کے تجربات کو پاکستان کے لیے عملی اسباق میں تبدیل کیا جا سکے۔
مصطفیٰ حیدر سید، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کانفرنس کو سولر مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر سولر مینوفیکچرنگ کے توازن میں تبدیلی، آسیان میں ٹیرف کے بعد کی ایڈجسٹمنٹ اور چین کی بیرون ملک کلین ٹیک مہم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرین سی پیک الائنس اس ڈائلاگ کا انعقاد ایسے وقت میں کر رہا ہے جب ممالک صنعتی پالیسی اور قابلِ اعتماد ترسیل کی بنیاد پر سولر پی وی ویلیو چین کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ انہوں نے بحث کا رخ اس جانب موڑا کہ مینوفیکچرنگ کے فیصلوں کو عملی طور پر کیسے منافع بخش بنایا جائے، جس میں پالیسی کی وضاحت، اسپیشل اکنامک زونز کی تعمیر و ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید، چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ نے اپنے کلیدی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کی ترقی کا انحصار تیزی سے چین کی صنعتی طاقت سے جڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 میں تقریباً 17 گیگا واٹ اور مالی سال 2025 میں 17.9 گیگا واٹ کے سولر پینلز درآمد کیے گئے، جس سے ستمبر 2025 تک مجموعی درآمدات 50 گیگا واٹ سے تجاوز کر گئیں۔ چین کی سولر برآمدات میں پاکستان کا حصہ جو 2022 میں صرف 2 فیصد تھا، 2025 میں بڑھ کر 12 فیصد ہو گیا۔ انہوں نے توانائی کی حفاظت پر سولر کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنوری سے اپریل 2025 کے درمیان پاکستان کی بجلی کی ضرورت کا 25.3 فیصد سولر سے پورا کیا گیا۔ انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگرچہ 2024 میں قیمتیں کم ہو کر 0.07 سے 0.09 ڈالر فی واٹ تک آ گئی تھیں، تاہم پیداوار میں کمی اور پالیسی تبدیلیوں کی وجہ سے 2025 کے آخر تک قیمتوں میں 9 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سولر مینوفیکچرنگ کی 80 فیصد سے زائد صلاحیت پر چین کا حصہ ہے، جس میں 50 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ انہوں نے سولر جیو پولیٹکس کو پانی اور وسائل سے بھی جوڑا اور بتایا کہ دسمبر 2024 تک نیٹ میٹرنگ کے صارفین کی تعداد 283,000 تک پہنچ چکی تھی، جبکہ 650,000 سولر ٹیوب ویلز کی وجہ سے 2023 سے چاول کی کاشت میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر شذرہ منصب علی کھرل، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی نے اپنے خطاب “پاکستان کا سولر ڈیمانڈ شاک: مینوفیکچرنگ اگلا محاذ کیوں؟” میں کہا کہ پاکستان میں سولر کی طلب مکمل طور پر درآمدات پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر 2025 تک چین سے تقریباً 51.5 گیگا واٹ کے سولر ماڈیولز درآمد کیے گئے۔ انہوں نے لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں دن کے وقت بجلی کی طلب میں کمی کے رجحان کا ذکر کیا جو مارکیٹ ریفارمز کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے مینوفیکچرنگ کو زرمبادلہ بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جون 2025 تک درآمدی لاگت 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
محمد عمر فاروق، سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ عالمی سولر ویلیو چین اب اس مرحلے میں ہے جہاں تجارتی پالیسی اور جیو پولیٹکس سرمایہ کاری کے فیصلوں پر ٹیکنالوجی جتنی ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے لیے موقع اس بات میں ہے کہ وہ مرحلہ وار مقامی پیداوار کو فروغ دے۔
ڈاکٹر کرسٹوف نیڈوپیل، ڈائریکٹر گریفتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ نے ان شرائط پر بات کی جنہوں نے آسیان کو چینی مینوفیکچررز کے لیے پرکشش بنایا۔ انہوں نے پاکستان کو پالیسی کے استحکام اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔
این اے زبیری، سینئر ایڈوائزر سی ایس اے آئی ایل نے کہا کہ محض مراعات کافی نہیں، سرمایہ کاروں کو کام کی رفتار اور یقین دہانی چاہیے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مارلسٹیا چتراننگرم (آئی ای ایس آر) نے انڈونیشیا کی مثال دیتے ہوئے مقامی صنعت اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں توازن کی اہمیت پر زور دیا۔
لام فام، انرجی (ایمبر) نے بتایا کہ آسیان نے تجارتی پابندیوں سے بچنے کے لیے چین کی مینوفیکچرنگ کو اپنے ہاں جگہ دی اور پاکستان بھی اس ماڈل سے سیکھ کر اپنی برآمدی منڈیوں میں تنوع لا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عارفہ اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ نے اسپیشل اکنامک زونز میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور 6 سے 12 ماہ کے اندر عملی بہتری لانے پر توجہ مرکوز کرنے کے عزم اظہار کیا۔
ژو تیانچی (آر ڈی سی وائی) نے چینی نقطہ نظر سے کہا کہ نجی چینی مینوفیکچررز کے لیے خطرات کا خاتمہ اور واضح عمل درآمد کا طریقہ کار سب سے اہم ہے۔ مارک لسٹر (ایشیا کلین انرجی پارٹنرز) نے تجویز دی کہ پاکستان کو پہلے ماڈیول اسمبلی سے آغاز کرنا چاہیے اور پھر بتدریج سیلز اور ویفرز کی مینوفیکچرنگ کی طرف جانا چاہیے۔
لِن ہوا، وزارت توانائی ویتنام نے ویتنام کے تجربات شیئر کیے کہ کس طرح وہاں گرڈ انٹیگریشن اور ریونیو کے تحفظ کے ذریعے منصوبوں کو سرمایہ کاری کے قابل بنایا گیا۔
اس کانفرنس میں تھنک ٹینکس، میڈیا، پالیسی سازوں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی، جس کا مقصد پاکستان میں سولر انڈسٹری کے قیام کے لیے تجارتی حقائق اور پالیسی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔