کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں اربوں روپے کی کرپشن کے معاملے پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں سابق چیئرمین احمد حیات اور سابق جنرل منیجر سید جمشید زیدی کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے مقدمہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947ء کی دفعہ 5 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت درج کیا۔ مقدمہ نیب کراچی کے ریفرنس کی بنیاد پر ایف آئی اے میں درج کیا گیا۔
حکام کے مطابق کے پی ٹی کی زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی اور 2005ء میں معاہدے میں ترمیم کے ذریعے 1 لاکھ 24 ہزار مربع میٹر اضافی زمین دی گئی۔ زمین کی الاٹمنٹ بغیر بولی کے کی گئی، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور رائلٹی اور دیگر مد میں تقریباً 2 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق 2017ء سے 2020ء کے عرصے میں مجموعی نقصان 157 ملین ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ میں اربوں کی کرپشن، سابق چیئرمین اور جنرل منیجر کے خلاف مقدمہ درج








