ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ کی امن پر مبنی کوششیں جاری ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔
صدر اردوان نے برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ابھی موقع موجود ہے اور ترکی صورتحال کی قریب سے نگرانی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی اگر طویل عرصے تک جاری رہی تو یہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان نے ایران کے خلاف جنگ کے بعد عوام کے سامنے اپنا پہلا بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم حالت جنگ میں ہے اور یو اے ای آسان شکار نہیں، ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن دفاعی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین میں جوفیر امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، جو ایران میں پانی کے پلانٹ پر حملے کے جواب میں کیا گیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پہلے واضح کیا تھا کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک کہ ان کی سرزمین سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران علاقائی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہے۔
ترکی اور یو اے ای: خطے میں امن اور دفاع کی کوششیں جاری








