واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم کے رہنما زیر زمین جا چکے ہیں، آج سب سے سخت حملے ہوں گے، ہم نہیں رکیں گے، آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بارے میں بڑا دعویٰ کیا اور کہا کہ مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اب تک ایران کے 15 ہزار سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران پر روزانہ اوسطاً ایک ہزار سے زیادہ حملے کیے جا رہے ہیں، یہ حملے امریکی فضائیہ اور اسرائیلی فضائیہ نے مشترکہ طور پر انجام دیے، حملوں کے بعد ایران کی فوجی طاقت نمایاں طور پر کمزور ہو چکی ہے۔
جی 7 ممالک کا ٹرمپ سے ایران جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام تقریباً ختم ہو چکے ہیں، ایران کے پاس موثر فضائیہ اور بحریہ باقی نہیں رہی، میزائل حملوں کی صلاحیت میں 90 فیصد کمی آئی ہے، ڈرون حملوں میں 95 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا مقصد ایران کی تمام اہم فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ یا غیر فعال کرنا ہے، جلد ہی ایران کی دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں کا آج 14 واں دن ہے، دو ہفتے سے کم عرصے میں ہم نے ایرانی بحریہ کو غیر فعال کیا، ایران میں اب بھی فرینڈلی فورسز اور کمرشل شپنگ کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہے، ایران آبنائے ہرمز کے اثرات کا ذمہ دار ہے، سینٹ کام ان کی کوششوں پر حملہ کرے گا۔









