ایران کے حکام نے کہا ہے کہ جزیرہ خارگ سے ایندھن اور تیل کی برآمدات بلا تعطل جاری ہیں اور وہاں کام کرنے والی تیل کمپنیوں کی سرگرمیاں بھی معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جزیرے پر موجود فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو خطے میں واقع اہم تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق خارگ جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے ساحل کے قریب واقع تقریباً پانچ میل طویل جزیرہ ہے اور اسے ملک کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے انجام پاتی ہیں، اس لیے یہاں سرگرمیوں کا جاری رہنا عالمی تیل منڈی کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
جزیرہ خارگ سے تیل کی برآمدات معمول کے مطابق جاری ہیں: ایرانی حکام








