بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت کا پانچواں خلائی مشن ناکام، مالی نقصان بھاری

بھارت کے خلائی پروگرام کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے جب پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C62) مشن تقریباً آٹھ منٹ بعد تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا۔ یہ مشن ستیش دھون اسپیس سینٹر سے شروع ہوا تھا۔
اس ناکامی کے نتیجے میں زمین کے مشاہدے کے لیے تیار مرکزی سیٹلائٹ انویشا (EOS-N1) سمیت 16 سیٹلائٹس تباہ ہو گئے۔ 2021 کے بعد یہ PSLV پروگرام کی پانچویں ناکامی ہے اور گزشتہ آٹھ ماہ میں دوسری بڑی ناکامی شمار کی جاتی ہے، جس کے بعد انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی صلاحیت اور حکومت کی تجارتی خلائی پروگرام پالیسی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
گزشتہ برس اور چند سالوں میں دیگر ناکامیوں میں شامل ہیں:
18 مئی 2025: تیسرے مرحلے کے سالڈ موٹر میں دباؤ کم ہونے کی وجہ سے EOS-09 سیٹلائٹ مدار تک نہیں پہنچ سکا۔ جنوری 2025: نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-02 مطلوبہ مدار تک نہ پہنچ سکا کیونکہ انجن کا والو کام نہیں کر سکا۔ 7 اگست 2022: سینسرز کی خرابی کے باعث سیٹلائٹس غیر مستحکم مدار میں گئے اور بعد میں زمین کے ماحول میں جل کر ختم ہو گئے۔ 12 اگست 2021: کریوجینک اسٹیج میں ہائیڈروجن ٹینک والو لیک ہونے کے باعث EOS-03 سیٹلائٹ مدار تک نہیں پہنچ سکا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ناکامیوں سے بھارت کو مالی اور دفاعی دونوں شعبوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ PSLV راکٹ جو تین دہائیوں تک قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا، مسلسل ناکامیوں کے بعد تحقیقات کے لیے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
صرف PSLV-C61 اور PSLV-C62 کی ناکامی سے تقریباً 1100 سے 1250 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہوا، اور پانچ ناکامیوں کے مجموعی مالی نقصان کا اندازہ 2200 سے 2800 کروڑ روپے تک لگایا جا رہا ہے۔ عالمی چھوٹے سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں بھارت کا حصہ 2017 میں تقریباً 35 فیصد تھا، جو 2024-25 تک تقریباً ختم ہو چکا ہے۔