اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حالیہ ترمیم کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کو بدعنوانی کے ایسے مقدمات سے بڑی تعداد میں دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے جن میں رقم تقریباً 800؍ ملین (80؍ کروڑ) روپے سے کم ہے، کیونکہ نیب قانون میں کی گئی نئی ترمیم کے تحت ادارے کیلئے جرائم کا نوٹس لینے کی کم از کم مالی حد کو مہنگائی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ نیب کے ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ ترمیم کے ذریعے متعارف کرایا گیا افراطِ زر کے مطابق حد کو ایڈجسٹ کرنے کا طریقہ کار پہلے ہی عملی حد کو اصل 500؍ ملین سے بڑھا کر تقریباً 800؍ ملین روپے تک لے جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد جاری مقدمات، تحقیقات اور ریفرنسز ممکنہ طور پر نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل نیب بدعنوانی کے صرف ایسے مقدمات میں کارروائی شروع کر سکتا تھا جن میں معاملہ کم از کم 500؍ ملین روپے کا ہو۔ تاہم، یکم جولائی 2022ء سے اس حد کو مہنگائی کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے قانون میں ترمیم کر دی گئی۔ یہ تبدیلی قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی شق 5؍ میں ترمیم کے ذریعے کی گئی، جس کے مطابق 500؍ ملین روپے کی رقم کو ’’یکم جولائی 2022ء سے ہر مالی سال کیلئے وفاقی محکمہ شماریات کی جانب سے شائع کردہ افراطِ زر کے اشاریے کی بنیاد پر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔‘‘ ترمیم کے متن میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ آرڈیننس کی شق 5 کی ذیلی شق (6) میں لفظ ’’روپے‘‘ کے بعد یہ الفاظ شامل کیے جائیں گے کہ’’۔۔۔جنہیں یکم جولائی 2022 سے شروع ہونے والے ہر مالی سال کیلئے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ افراطِ زر کے اشاریے کی بنیاد پر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔‘‘ نیب کے اندرونی ذرائع کے مطابق، 2022ء کے بعد مہنگائی کے اثرات سے عملی حد پہلے ہی تقریباً 800؍ ملین روپے تک جا پہنچی ہے۔
انصارعباسی
مہنگائی سے جڑی ترمیم، نیب 80 کروڑ سے کم کے کرپشن کیسز سے دستبردار ہونے پر مجبور








