بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بابر اعظم ان فٹ یا ڈراپ؟ معمہ حل ہو گیا

بابر اعظم ان فٹ ہیں یا انہیں ڈراپ کیا گیا، اس حوالے سے معمہ حل ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے بابر اعظم کو دورہ بنگلادیش کیلیے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا تھا، اس کی وجہ ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی تھی۔

بعد ازاں کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر کو ڈراپ نہیں کیا ہم نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانا چاہتے ہیں اسی لیے آرام دیا۔

تاہم گزشتہ دنوں سلیکشن کمیٹی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں عاقب جاوید نے کہا کہ بابر اور فخر فٹنس مسائل کی وجہ سے باہر ہوئے، بورڈ سے تحقیقات کرنے کا کہیں گے کہ ایسا کیسے ہو گیا، ورلڈکپ کے بعد تو دونوں نے کوئی کرکٹ ہی نہیں کھیلی تھی۔

ان متضاد بیانات سے ابہام پیدا ہوگیا تھا، اس حوالے سے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بابر اعظم اور فخر زمان دونوں ادھوری فٹنس کے باوجود ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شریک ہوئے تھے، بابر کی کارکردگی پر بھی اس کا بڑا اثر پڑا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز اس بات سے لاعلم تھے، انہوں نے فزیو کلف ڈیکن کی کلیئرنس رپورٹ پر انہیں منتخب کیا تھا۔

تاہم حال ہی میں جب قومی ٹی ٹوئنٹی کپ شروع ہونے لگا تو بابر نے ٹانگ میں معمولی تکلیف کا کہہ کر شرکت سے انکار کر دیا، جب برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جاوید مغل (ڈائریکٹر اسپورٹس ایکسرسائز میڈیسن پی سی بی) نے ان کی انجری کا معائنہ کیا تو وہ سنگین نظر آئی۔

اسی طرح فخر زمان بھی فٹ نہ لگے، اس پر سوال اٹھا کہ دونوں کو کیسے ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کیا گیا؟ بورڈ حکام اس حوالے سے حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حالیہ دورہ بنگلادیش کے دوران محمد رضوان بھی مکمل فٹ نہ تھے، نوجوان بیٹر معاذ صداقت تیسرے میچ سے قبل انجری کا شکار نظر آئے، کھلاڑیوں کی کمی کے سبب انہیں میدان میں اتارنا پڑا، اسی لیے ان سے صرف ایک ہی اوور کروایا گیا تھا۔

اس سے قبل شامل حسین بھی گردن کی انجری میں مبتلا ہو گئے تھے، ٹیم مینجمنٹ نئے کرکٹرز کی فٹنس سے متاثر نہیں، ساتھ دباؤ نہ جھیل پانے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

بیشتر نوجوان کھلاڑیوں کی فٹنس 20 اوورز کے میچ والی تھی، 50 اوورز کے مقابلے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پی سی بی اب ایک جامع پلان تیار کر رہا ہے جس کے تحت ہر سیریز سے قبل کھلاڑیوں کی فٹنس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے کی منظوری دی جائے گی۔