بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’’دوبدمعاش ریاستیں‘‘ … اسرائیلی بیانیے میں پاکستان کا ذکر پھر زیر بحث

کراچی (نیوز ڈیسک) ’’دوبدمعاش ریاستیں‘‘… اسرائیلی بیانیے میں پاکستان کا ذکر پھر زیر بحث، اسرائیلی سفیر رووین آزار کا کہنا ہے ایک بدمعاش ریاست پہلے ہی ایٹمی ہتھیار رکھتی ہے، دوسری کو یہ صلاحیت حاصل نہیں کرنے دینا چاہتے، پاکستان کے عرب دنیا سے تعلقات، جن میں ہمارے دشمن بھی شامل ہیں، طویل عرصے سے صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کو ایران کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے لیے کھل کر سامنے آتے نہیں دیکھا، میزبان نے کہا میں نے سعودیوں اور پاکستانی فوج کی ملاقات دیکھی؟ جس پر اسرائیلی سفیر نے طنزیہ جواب دیا ’اوہ، تو آپ ایک ملاقات سے اتنے خوفزدہ ہیں؟‘

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کے سفیر رووین آزار نے بھارتی میڈیا کو اہم انٹرویو میں پاکستان کے کردار، سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات اور خطے میں ایٹمی توازن پر کھل کر بات کی۔

معروف بھارتی میزبان کے ساتھ گفتگو میں نہ صرف سخت سوالات اٹھائے گئے بلکہ اسرائیلی مؤقف بھی پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آیا، جس میں ایران کو روکنے کی حکمت عملی اور پاکستان کے حوالے سے دیرینہ خدشات نمایاں رہے۔

اسرائیلی سفیر رووین آزار کے ساتھ انٹرویو کے دوران میزبان نے پاکستان کے کردار پر براہِ راست اور سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ خطے میں دو بدمعاش ریاستیں ہیں، ایک وہ جس کے پاس پہلے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور دوسری وہ جو انہیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں ایران کو روکنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے، جبکہ پہلا ملک پاکستان قرار دیا جاتا رہا ہے۔

میزبان نے سوال کیا کہ کیا پاکستان درحقیقت اسرائیل یا اس کے اتحادیوں کے قریب نہیں، کیونکہ وہ سعودی عرب کو فوری سیکیورٹی معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، سعودی عرب کو سیکیورٹی امداد فراہم کرکے کیا پاکستان مؤثر طور پر آپ کی طرف نہیں ہے؟

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ کیا اس سے آپ کو تکلیف نہیں ہوتی؟ کیا آپ نے حمایت دیکھی؟

بھارتی میزبان نے کہا کہ میں نے سعودیوں اور پاکستانی فوج کے درمیان ملاقات دیکھی ہے۔

اس پر اسرائیلی سفیر نے قدرے طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اوہ، تو آپ ایک ملاقات سے اتنے خوفزدہ ہیں؟ جس پر میزبان نے وضاحت کی کہ وہ خوفزدہ نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی اور عسکری تناظر میں سوال اٹھا رہے ہیں، خاص طور پر سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعلقات کے حوالے سے۔

اسرائیلی سفیر رووین آزار نے جواب میں کہا کہ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کوئی نئی بات نہیں بلکہ ماضی سے جاری ہیں، جن میں ایسے ممالک بھی شامل رہے ہیں جنہیں اسرائیل اپنا مخالف یا دشمن سمجھتا ہے۔