لاہور ہائیکورٹ نے لڑکی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران آئی جی پنجاب سے صوبے بھر میں بچیوں کے اغوا کے کیسز کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے حکم دیا کہ اغوا کے تمام کیسز میں تفتیشی افسران کی کارکردگی کی رپورٹ بھی پیش کی جائے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب سے 15 میں تفصیلی رپورٹ طلب کی۔
عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم خان نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ مقدس بی بی کو 2022 میں قتل کر دیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ بچی کو قتل کیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ بچی جس گھر میں ملازمہ تھی، اس مالک کے داماد کا ریمانڈ لیا گیا۔ سی ڈی آر سے پتہ چلا کہ ملزم محسن کا بچی سے رابطہ تھا اور اب وہ ہمارے جسمانی ریمانڈ پر ہے۔ ملزم نے بچی کو قتل کر کے لاش نالے میں پھینک دی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا بچی کی لاش کسی تھانے والوں نے امانتاً دفن کر دی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس کیس کو ثابت کرنے میں کتنا عرصہ لگا۔ آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ چار سال۔
چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیے کہ ایسے تفتیشی افسران کو کیس دینے سے گریز کیا جائے جو سالہا سال لگاتے ہیں۔ اغوا کے کیسز میں اکثر رویہ یہ ہوتا ہے کہ بچی خود گئی ہوگی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ محنتی اور تجربہ کار تفتیشی افسران کو تعینات کیا جائے اور تفتیشی افسران کا ماضی کا ریکارڈ دیکھ کر ہی کیسز دیے جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے صوبے بھر میں بچیوں کے اغوا کے کیسز کی رپورٹ طلب کر لی








