بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کیا سونا اب بھی محفوظ سرمایہ ہے؟

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ شدید اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو ایک مشکل سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا سونا اب بھی محفوظ سرمایہ ہے یا بدلتی عالمی صورتحال نے اسے غیر یقینی بنا دیا ہے۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ بیانات کے بعد مارکیٹ میں غیر معمولی حرکت دیکھی گئی۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایک ہی دن میں سونے کی قیمت تقریباً 4 فیصد بڑھ کر 4,550 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل سے متعلق ایک پیشکش کی ہے، جسے ممکنہ امن مذاکرات کی طرف پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات جلد شروع ہو سکتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلسل نو دن کی گراوٹ کے بعد اچانک مارکیٹ کا رخ بدل گیا اور سرمایہ کاروں نے سونے کی خریداری تیزی سے بڑھا دی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مضبوط بنیادی عوامل کی بجائے خبروں کے اثر سے پیدا ہونے والا عارضی رجحان ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب جنگی خدشات کم ہوتے ہیں اور امن کی امید پیدا ہوتی ہے تو وہ سرمایہ کار جو پہلے سونے کی قیمت گرنے پر شرط لگا رہے ہوتے ہیں، اپنی پوزیشنز بند کرتے ہیں، جس سے قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
اس کے باوجود بڑی تصویر اب بھی واضح نہیں۔ سونا اپنی جنوری 2026 کی بلند ترین سطح 5,626 ڈالر فی اونس سے تقریباً 20 فیصد نیچے ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ ابھی تک کسی واضح سمت کا تعین نہیں کر سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں صرف جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہی نہیں بلکہ نقدی کی ضرورت بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ جب مالی دباؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار فوری نقد حاصل کرنے کے لیے سونا بھی فروخت کر دیتے ہیں، جس سے اس کی قیمت گر سکتی ہے، چاہے وہ روایتی طور پر محفوظ سرمایہ ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔
مزید یہ کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان ہے۔ بلند شرح سود سونے کے لیے منفی ہوتی ہے کیونکہ سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، جبکہ دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں۔
دوسری طرف مرکزی بینک، جو گزشتہ دو برسوں میں بڑی مقدار میں سونا خریدتے رہے، اب نسبتاً محتاط نظر آ رہے ہیں، اگرچہ وہ اب بھی مجموعی طور پر خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ امریکی ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو قلیل مدت میں سونے کی قیمتیں غیر متوقع رویہ اختیار کر سکتی ہیں اور یہ کسی حد تک رسک والے اثاثے جیسا محسوس ہو سکتا ہے، تاہم طویل مدت میں سونا اب بھی مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور عالمی مالیاتی خطرات کے خلاف ایک اہم اور قابلِ اعتماد تحفظ سمجھا جاتا ہے۔