ایران نے علی لاریجانی کے بعد محمد باقر ذوالقدر کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ علی لاریجانی گزشتہ ہفتے ایک فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد اس عہدے کے لیے انتخاب انتہائی حساس سمجھا جا رہا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق ذوالقدر ایک سابق ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر ہیں اور 2023 سے مشاورتی کونسل کے سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ایران-عراق جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور طویل عرصے تک IRGC میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ذوالقدر کی تقرری محض حالیہ جنگ کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک طویل غور و فکر کے بعد کی گئی ہے تاکہ ایسا شخص منتخب کیا جا سکے جو داخلی اور خارجی سیکیورٹی کے چیلنجز سنبھال سکے۔
ایران کو درپیش چیلنجز
ملک میں جاری فضائی حملے اور داخلی احتجاج ذوالقدر کے لیے فوری امتحان ہیں۔
ایران کی جانب سے میزائل حملے اور ہرمز کی تنگی کے ذریعے دباؤ جاری ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
امریکی مذاکرات میں بھی ذوالقدر کا کردار اہم ہوگا، کیونکہ کسی بھی معاہدے کی منظوری کے لیے ان کی رضامندی ضروری ہوگی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی قیادت اس وقت قومی سیکیورٹی میں مزید عسکری قوت شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور محمد باقر ذوالقدر کو اس حساس ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا ہے تاکہ وہ ملک کے داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز کو سنبھال سکیں۔
ایران کے نئے سیکیورٹی سربراہ محمد باقر ذوالقدر کی تقرری کیوں اہم ہے؟








