وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ممالک کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان کی بندرگاہوں اور سمندری آپریشنز پر بریفنگ دی گئی، جس پر وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مزید فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے برآمدات کے عمل کو تیز کیا جائے اور تمام ادارے مکمل تیاری کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ برآمدات کے لیے 40 مختلف اشیائے خوردونوش کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں چاول، چینی، خوردنی تیل، گوشت، پولٹری، ڈیری مصنوعات، خشک دودھ، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ برآمد کنندگان کا ایک جامع ڈیٹا بیس بھی تیار کر لیا گیا ہے تاکہ عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی چارجز عائد نہیں کیے جائیں گے، جبکہ فضائی اور بحری راستوں کے ذریعے ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ خلیجی ممالک کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز بھی جاری ہیں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عیدالفطر کے دوران بھی فعال رہیں اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جبکہ برآمدات کو سہل بنانے کے لیے خصوصی سہولت مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد پر کڑی نظر رکھی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ داری میں کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ خام تیل لے کر آنے والے جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر سہولت دی جا رہی ہے، جبکہ وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی۔
خلیجی ممالک کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت








