تیز گام ایکسپریس کے حالیہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں حادثے کی وجوہات کے حوالے سے حکام کے درمیان اختلافِ رائے بھی ظاہر ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرین نمبر 8-ڈی این، جسے انجن نمبر 6315 کھینچ رہا تھا، منگل کی رات حادثے کا شکار ہوئی۔ ٹرین رات 8 بج کر 50 منٹ پر روانہ ہوئی اور محض تین منٹ بعد اے ڈی ڈبلیو اسٹیشن سے گزرتے ہوئے اس کی چھٹی کوچ پٹری سے اتر گئی۔ بتایا گیا ہے کہ کوچ کا ٹرالی حصہ پٹری سے اترنے کے بعد تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک گھسٹتا رہا۔
حادثے کے دوران ٹرین ڈاؤن سائیڈ پلیٹ فارم سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں مزید سات کوچز بھی پٹری سے اتر گئیں اور ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کی بنیادی وجہ مکینیکل خرابی قرار دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق چھٹی کوچ کی اگلی ٹرالی میں ڈھیلی کپلنگ کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔
تاہم ایک سینئر افسر نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے نوٹ میں کہا ہے کہ متعلقہ کوچ مکمل طور پر فٹ تھی اور اس کے پہیوں کا فاصلہ اور ساخت مقررہ معیار کے مطابق تھی۔ ان کے مطابق یہ کوچ مسلسل سروس میں تھی اور اس حوالے سے پہلے کبھی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
افسر نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ حادثہ محض تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ڈرائیور کی کسی آپریشنل غلطی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، تاہم تکنیکی ماہرین کے درمیان تاحال اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ حادثے کی اصل وجہ مکینیکل خرابی تھی یا انسانی غلطی۔
تیز گام ایکسپریس حادثہ: ابتدائی رپورٹ میں وجوہات پر اختلاف سامنے آگیا








