بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گرین ٹورزم سے پاکستان میں سیاحت کا نیا دور، بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں غیر معمولی اضافہ

پاکستان میں سیاحت کے شعبے نے حالیہ عرصے میں ایک نمایاں پیش رفت کی ہے، جس میں گرین ٹورزم کی حکمتِ عملی کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ گرین پاکستان انیشیٹیو کے تحت کام کرنے والی گرین ٹورزم پرائیویٹ لمیٹڈ نے نہ صرف سیاحتی ڈھانچے کو بہتر بنایا بلکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا کیے، جس کے نتیجے میں ملکی سیاحت کو ایک نئی جہت ملی ہے۔
سال 2025 پاکستان کے لیے سیاحتی اعتبار سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جب ملک میں 10 لاکھ سے زائد بین الاقوامی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 820 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک پرکشش سیاحتی مقام کے طور پر ابھر رہا ہے۔
عالمی میڈیا نے بھی پاکستان کے قدرتی حسن کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔ BBC اور CNN جیسے معتبر اداروں نے Gilgit-Baltistan کو دنیا کے ٹاپ 25 سیاحتی مقامات میں شامل کیا، جس سے ملک کی ساکھ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کی جانب سے ویزا پالیسی میں آسانی بھی اس کامیابی کا ایک اہم سبب بنی ہے۔ 126 ممالک کے شہریوں کے لیے “ویزا پرائر ٹو ارائیول” کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ “Tourism on the Palm” جیسے جدید ای-ٹورزم پورٹل کے ذریعے سیاحوں کو ڈیجیٹل سہولیات بھی مہیا کی جا رہی ہیں، جس سے ان کا سفر مزید آسان اور خوشگوار ہو گیا ہے۔
اسی دوران گرین پاک ہوٹلز اینڈ ریزورٹس نے سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں 17 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 2026-27 کے دوران مزید 10 ہوٹلز اور ریزورٹس کھولنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ان منصوبوں میں Gadani، Sonmiani اور Hunza Valley جیسے اہم سیاحتی مقامات شامل ہیں۔
گرین ٹورزم کی اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد صرف سیاحوں کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ پائیدار ترقی کو فروغ دینا بھی ہے۔ اس کے تحت عالمی معیار کے انفراسٹرکچر کی فراہمی، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ایڈونچر ٹورزم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جو مستقبل میں پاکستان کو ایک مستحکم اور مقبول سیاحتی منزل بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔