اسرائیل کے اپوزیشن رہنما یائیر لاپید نے حکومت کی جنگی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور لبنان کے خلاف جاری کارروائیاں ملک کو خطرناک سمت میں لے جا رہی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج اپنی صلاحیت کی حد سے بھی آگے کام کر رہی ہے، جبکہ حکومت واضح حکمتِ عملی، ضروری وسائل اور مناسب افرادی قوت کے بغیر بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال ملک کو “سیکیورٹی تباہی” کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
یائیر لاپید نے خبردار کیا کہ موجودہ پالیسی نہ صرف فوج پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ طویل المدتی طور پر اسرائیل کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے بھی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے تھے، جن کی تفصیلات بعد ازاں منظرِ عام پر آئیں۔
اگرچہ یائیر لاپید حکومت کی حکمتِ عملی پر تنقید کر رہے ہیں، تاہم وہ غزہ، ایران اور لبنان میں فوجی کارروائیوں کے اصولی حامی بھی سمجھے جاتے ہیں، جس سے اسرائیلی سیاست میں جاری بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
بغیر حکمتِ عملی جنگ، اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید








