بین الاقوامی تنظیم Genocide Watch کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھارت میں مسلمانوں کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، نسل کشی کے ممکنہ خطرات کو جانچنے کے لیے بنائے گئے دس مراحل کے فریم ورک میں بھارت سات مراحل تک پہنچ چکا ہے، جو ایک خطرناک پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں نفرت انگیز تقاریر اور مخالف مسلم سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، معاشرے میں امتیازی قوانین، تعصبانہ بیانیے اور اقلیتوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیے جانے جیسے عوامل ایک تشویشناک ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی سرکاری اداروں میں نمائندگی نہایت کم ہے۔ تقریباً 14 فیصد آبادی ہونے کے باوجود سول سروس میں ان کی نمائندگی صرف 3 فیصد اور پولیس میں 4 فیصد کے قریب ہے، جس سے ان کی فیصلہ سازی میں شمولیت محدود ہو جاتی ہے۔
رپورٹ میں ریاست آسام کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں لاکھوں افراد کی شہریت خطرے میں ہے، جبکہ حراستی مراکز کے قیام سے خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بنگالی مسلمانوں کے حوالے سے۔
Genocide Watch کے مطابق نفرت انگیز بیانات، سوشل میڈیا پر تشدد کو ہوا دینے والا مواد، اور بعض شدت پسند گروہوں کی جانب سے اسلحہ اٹھانے کی ترغیب جیسے عوامل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض واقعات میں تشدد کا شکار افراد کے خلاف ہی کارروائی کی گئی، جس سے انصاف کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔
تنظیم نے عالمی برادری اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیز سرگرمیوں، تربیتی کیمپوں اور اشتعال انگیز بیانات کے خلاف فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت، عدم مساوات اور امتیازی رویے نہ صرف اقلیتوں بلکہ مجموعی سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔









