اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ طلال چوہدری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو بعض حلقے “مسنگ پرسنز” کے معاملے سے جوڑ کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ایک درست تاثر نہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے لیے مسنگ پرسنز کو “بہانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے”۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور انتظامی کمزوریوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق جو عناصر ریاست کو تسلیم نہیں کرتے، وہ عوامی فلاح کے منصوبوں جیسے ہسپتالوں اور ڈیمز کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ اپنی جگہ، لیکن اسے دہشت گردی کی کارروائیوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسے معاملات کو بعض اوقات بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اصل سیکیورٹی صورتحال سے توجہ ہٹائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، اور نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ملک میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔خلاصہ:طلال چوہدری کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ دہشت گردی جیسے سنجیدہ مسئلے کو سیاسی یا دیگر تنازعات سے جوڑنے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا چاہیے، اور ریاستی سطح پر مربوط اقدامات کیے جائیں۔
دہشتگردی کو مسنگ پرسنز سے جوڑنا گمراہ کن ہے، طلال چوہدری








