واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی میڈیا پراپنی گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی جنگ جیت لی ہے اور ایرانی بحری و فضائی طاقت کو تقریباً مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے 154 بحری جہاز تباہ یا ڈبو دیے گئے ہیں، جن میں سے کئی انتہائی جدید اور اہم تھے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایرانی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا ہے اور اب ان کی بحری صلاحیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں نے اپنے حکام سے پوچھا کہ ہم نے ان جہازوں کو ڈبونے کے بجائے قبضے میں کیوں نہیں لیا تاکہ ہم خود انہیں استعمال کر سکتے، لیکن ہماری فورسز نے اپنی طاقت دکھانے کے لیے انہیں سمندر برد کرنا بہتر سمجھا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی میزائل صلاحیت بھی 90 فیصد تک ختم ہو چکی ہے اور اب ان کے پاس صرف 9 سے 10 فیصد میزائل بچے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس اب میزائل لانچرز بھی نہیں رہے، جس کے بغیر میزائلوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ صدر ٹرمپ نے تہران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، وہ مذاکرات کی میز پر آئے، کیونکہ امریکہ نے ایران کو ایسا فوجی دھچکا پہنچایا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ایرانی حکومت کی درخواست پر توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں 10 دن کی توسیع کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ جاری سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہتر سمت میں جا رہے ہیں اور ہم فی الحال ان کے پاور پلانٹس کو نشانہ نہیں بنا رہے۔









