برسلز (ویب ڈیسک)یورپین پارلیمنٹ نے بڑے حفاظتی اقدامات کے ساتھ ای یو-امریکا ٹرن بیری تجارتی معاہدے کی منظوری دے دی۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ یورپین مصنوعات پر 50 فیصد کی بجائے 15 فیصد ڈیوٹی لے گا، جواب میں امریکا اپنی سمندری غذا اور زرعی مصنوعات کی ایک وسیع رینج کو رعائیتی قیمتوں پر یورپین مارکیٹ میں بھیج سکے گا۔417 ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہونے والے اس معاہدے میں ممبران پارلیمنٹ نے 3 مختلف طرح کی حفاظتی ترامیم متعارف کروائی ہیں۔
سسپینشن کلاز کے تحت یورپین کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر امریکا تجارتی موضوعات پر یورپین ممبر ریاستوں اور اس کے تجارتی حکام کو دھمکانے یا تجارتی زبردستی کرنے کی کوشش کرے یا 15 % فیصد ٹیکس اور ڈیوٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے تو یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
اسی طرح سن رائز کلاز کے تحت نئے ٹیرف صرف اس صورت میں موثر ہوں گے جب امریکا اپنے وعدوں کا احترام کرے اور یورپی یونین کی مصنوعات پر 50 فیصد سے کم اسٹیل اور ایلومینیم کے مواد پر ٹیرف کو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک لائے۔
مزید برآں، 50 فیصد سے زیادہ اسٹیل اور ایلومینیم کے مواد کے ساتھ یورپی یونین کی مصنوعات کے لیے، جب تک کہ امریکا اپنے محصولات کو زیادہ سے زیادہ 15% تک کم نہیں کرتا، اسٹیل، ایلومینیم اور ان سے مشتق مصنوعات کی امریکی برآمدات کے لیے یورپی یونین ٹیرف کی ترجیحات ضابطے کے اطلاق میں داخلے کے چھ ماہ بعد لاگو ہونا بند ہو جائیں گی۔
ممبران پارلیمنٹ نے اس منظوری کے ساتھ ایک سن سیٹ کلاز بھی متعارف کروائی ہے۔ اس شق کے تحت اس معاہدے کو کھلا رکھنے کی بجائے اس کی منظوری کو صرف 2 سال کیلئے محدود کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حفاظتی میکنزم کے تحت یورپین کمیشن کو مانیٹرنگ کا اختیار بھی دیا گیاہے ۔ جس کے تحت اگر امریکا سے آنے والی مصنوعات مقامی مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہونے لگیں یا کسی اور ممکنہ وجہ سے انہیں خطرہ لاحق ہو تو کمیشن اس پر بھی ایکشن لے سکے گا۔









