واشنگٹن (نیوزڈیسک)ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا ایران میں ممکنہ طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع ایسے منصوبوں پر غور کر رہا ہے جن میں جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقوں میں محدود پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ ان آپریشنز میں اسپیشل آپریشنز فورسز اور دیگر فوجی دستوں کی شرکت متوقع بتائی گئی ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال کسی حتمی تعیناتی کی منظوری نہیں دی، تاہم حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ بندی اچانک نہیں بلکہ پہلے سے جاری عمل کا حصہ ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا بغیر زمینی افواج کے بھی اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے، لیکن پس پردہ تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ادھر خطے میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانا شروع کر دی ہے۔ امریکی میرینز کو تعینات کیا جا چکا ہے، جبکہ 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں اہلکاروں کو بھی خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اس صورتحال نے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ ممکنہ زمینی کارروائیاں ایک بڑے اور طویل تنازع کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔









