اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کلیدی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور اس وقت امریکہ و ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے ایک معتبر ‘رابطہ کار (Conduit) کے طور پر کام کر رہا ہے۔ نجی چینل کو دی گئی خصوصی بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کے توسط سے ایران کو 15 نکات پر مشتمل تجاویز ارسال کی ہیں، جن پر تہران سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ خطے کو بڑے ٹکراؤ سے بچانے کے لیے پاکستان کی دعوت پر سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد کا اہم دورہ کر رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک ‘مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب اس پورے عمل میں ایک ناگزیر فریق ہے اور پاکستان برادر ملک کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ پاکستان کے خلاف ہونے والی قیاس آرائیوں میں کوئی حقیقت نہیں، ہم صرف امن کے داعی ہیں اور خطے میں استحکام چاہتے ہیں۔سفارتی امور کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعظم نے ملکی معیشت پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت کی پوری کوشش ہے کہ اس کا بوجھ عوام پر نہ پڑے ۔ حکومت سخت فیڈرل ڈسپلن پر عمل پیرا ہے تاکہ مہنگائی کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔بریفنگ کے اختتام پر وزیر خارجہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محرک اقتصادی سفارتکاری اورعلاقائی امن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسا بلاک بنانا چاہتے ہیں جو نہ صرف سیاسی طور پر مضبوط ہو بلکہ معاشی طور پر بھی ایک دوسرے کا سہارا بنے۔









