بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکی عدالت نے وائٹ ہاؤس کے 400 ملین ڈالرز بال روم منصوبے پر پابندی لگا دی، کانگریس کی منظوری لازمی قرار

امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 400 ملین ڈالرز مالیت کے وائٹ ہاؤس میں بال روم منصوبے پر عارضی طور پر کام روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبہ کانگریس کی قانونی منظوری کے بغیر جاری نہیں رہ سکتا۔

واشنگٹن ڈی سی کے ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون نے نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن کی درخواست پر ابتدائی حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ صدر کو وائٹ ہاؤس میں اس نوعیت کی تعمیر کا اختیار دینے والا کوئی واضح قانون موجود نہیں۔

جج رچرڈ لیون نے فیصلے میں لکھا ہے کہ امریکی صدر وائٹ ہاؤس کے مالک نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے اس کے نگہبان ہیں، اس لیے کانگریس کی باقاعدہ منظوری تک تعمیراتی کام فوری طور پر روکا جائے۔

عدالت کے مطابق یہ حکم وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی اور حفاظت سے متعلق ضروری تعمیراتی کاموں پر لاگو نہیں ہو گا۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 90,000 اسکوائر فٹ پر مشتمل بال روم منصوبہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

جج نے انتظامیہ کو اپیل کا موقع دینے کے لیے اپنے حکم پر 14 دن کی مہلت بھی دی جس کے چند گھنٹوں بعد ہی محکمۂ انصاف نے ڈی سی سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں اپیل دائر کر دی۔

نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن تنظیم کی صدر کیرول کوئلن نے عدالتی فیصلے کو امریکی عوام کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ ملک کی ایک تاریخی اور علامتی عمارت کو مستقل طور پر متاثر کر سکتا تھا۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں تنظیم کو بائیں بازو کی انتہاپسند قرار دیا ہے۔

اُنہوں نے لکھا ہے کہ بال روم منصوبہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کیے بغیر بجٹ سے کم اور مقررہ وقت سے پہلے مکمل کیا جا رہا ہے اور یہ دنیا کی بہترین عمارت ثابت ہو گا۔

صدر ٹرمپ اس منصوبے کو اپنی صدارت کی نمایاں یادگار قرار دیتے رہے ہیں۔