اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرِ دفاع نے حالیہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پاک افغان سرحدی کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، اور اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات ملک کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم یہ پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر ایک اہم موقع بھی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان دیگر اہم ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہو رہا ہے۔
امریکی پالیسیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے Khawaja Asif نے کہا کہ خطے میں بعض بیانات اور اقدامات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، اور ایسی حکمت عملیوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
داخلی سیاسی صورتحال پر گفتگو میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے، اور تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
حال ہی میں ان کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہی، جس میں وہ اپنی ذاتی مصروفیت کے دوران نظر آئے۔ اس پر عوامی سطح پر مختلف آرا سامنے آئیں، تاہم وزیرِ دفاع کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔
پارلیمانی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خواجہ آصف رواں عرصے میں قومی اسمبلی کے فعال اراکین میں شامل رہے ہیں، جہاں انہوں نے قومی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
مجموعی طور پر ان کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت ایک طرف سیکیورٹی معاملات پر سخت مؤقف رکھتی ہے تو دوسری جانب سفارتی سطح پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش بھی جاری ہے۔









