وفاقی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا جواز پیش کرتے ہوئے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کردیا۔ اس فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا صارفین حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کی شب ایک پریس کانفرنس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافے کا اعلان کیا۔
قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 458 روپے 41 پیسے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 520 روپے 35 پیسے ہو گئی ہے۔
پاکستان کے سینئیر صحافی حامد میر نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھٹی قیمتوں کے حوالے سے لکھا کہ، ”قطری ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستان کے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک تیل کراچی لا رہے ہیں۔
قطری ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستان کے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک تیل کراچی لا رہے ہیں اب تک 18 بحری جہاز اس راستے سے تیل لا چکے ہیں تو پھر حکومت پاکستان نے تیل کی قیمت میں اتنا اضافہ کیوں کیا؟ عوام پر ضرورت سے زیادہ معاشی بوجھ ڈال کر انہیں کسی ایسے سیاسی فیصلے کے لئے… https://t.co/zD5uAk61q8
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) April 3, 2026
حامد میر نے لکھا کہ اب تک 18 بحری جہاز اس راستے سے تیل لا چکے ہیں تو پھر حکومت پاکستان نے تیل کی قیمت میں اتنا اضافہ کیوں کیا؟ عوام پر ضرورت سے زیادہ معاشی بوجھ ڈال کر انہیں کسی ایسے سیاسی فیصلے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے جو انہیں قبول نہیں ہو گا؟“
سابق گونر سندھ محمد زبیر نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ، ”پیٹرولیم لیوی کا عالمی تیل کی قیمتوں سے کیا تعلق ہے؟ جب جنگ شروع ہوئی تھی، پیٹرولیم لیوی 80 روپے تھی اور اب یہ دگنی ہو کر 160 روپے ہو گئی ہے۔ کیوں؟ لوگوں پر مزید ٹیکس کیوں لگائے جا رہے ہیں؟“
What has petroleum levy got to do with international oil prices. Petroleum levy was Rs 80 when war started and is now double that amount at Rs 160. Why ?
Why more taxes on people?— Mohammad Zubair (@Real_MZubair) April 3, 2026
سینئیر صحافی مبشر زیدی نے پیٹرول کی قیمت بڑھانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ، ”دنیا بھر میں صرف حکومت پاکستان ہی واحد حکومت ہے جس نے نا صرف ایمانداری سے تیل کی قیمتوں کا بوجھ پوری طرح عوام پر منتقل کیا بلکہ فی لیٹر ٹیکس میں بھی اضافہ کیا تاکہ عوام کا تیل بھی نا نکلے بلکہ خون نکلے۔“
دنیا بھر میں صرف حکومت پاکستان ہی واحد حکومت ہے جس نے نا صرف ایمانداری سے تیل کی قیمتوں کا بوجھ پوری طرح عوام پر منتقل کیا بلکہ فی لیٹر ٹیکس میں بھی اضافہ کیا تاکہ عوام کا تیل بھی نا نکلے بلکہ خون نکلے#FuelLevy #Pakistan
— Mubashir Zaidi (@xadeejourno) April 2, 2026
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں پر خاموش نہ رہ سکے اور ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ، ”پیٹرول کی نئی قیمت 458.41 روپے فی لیٹر ہے۔ گزشتہ شب اسے فی لیٹر 134 روپے بڑھایا گیا۔ اس اضافے میں پیٹرولیم لیوی میں 55 روپے کا اضافہ شامل ہے۔ یعنی حکومت نے قیمتیں بڑھاتے وقت پیٹرول پر ٹیکس بھی 55 روپے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
The new price of petrol is Rs 458.41 per litre. It was increased by Rs 134 per litre last night. This increase includes an increase of Rs 55 in petroleum levy. So the government decided to increase tax on petrol by Rs 55 at the same time it was raising prices.
So let’s…
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) April 3, 2026
مفتاح اسماعیل نے لکھا کہ آئیے اسے سمجھتے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ شب پیٹرول کی قیمتیں فی لیٹر 79 روپے بڑھائیں، اور ساتھ ہی پیٹرول پر ٹیکس 55 روپے بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا، جس سے کل اضافہ 134 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ اور وہ بار بار کہتی رہتی ہے کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی بلکہ خود بوجھ اٹھانا چاہتی ہے۔ ٹھیک ہو گیا۔“
سینئیر صحافی نصرت جاوید نے اپنی ایکس پوسٹ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھا کہ، ”ابھی ابھی پاکستان کے فیصلہ ساز حلقوں میں گہرائی سے جڑے تین انتہائی بااثر شخصیات سے بات کی۔ ان سب نے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ہی بات کہی کہ عوام چند دنوں تک اس بھاری پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر شور مچائیں گے پھر آگے بڑھ جائیں گے۔“
Just spoke with 3 highly influential figures deeply embedded in Pakistan’s decision-making circles. Every single one of them said the same thing with full confidence: “The masses will just bicker for a few days over this massive petroleum price hike… then move on.”God Save The…
— Nusrat Javeed (@javeednusrat) April 2, 2026
ایک عبدالباسط نامی صارف نے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کی حکومت کو خراج تحسین کیے جانے والی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’افسوس ہے کہ آپ کو قیمتیں بڑھانا بھی کارنامہ لگتا ہے، ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے کے پیچھے چھپ کر عوام کی زندگی اجیرن کرنے کا نام خدمت نہیں ہے۔‘
مبارکباد تو بنتی ہے کہ آپ لوگوں نے مل کر اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب قیمتیں بڑھانا بھی 'کارنامہ' لگتا ہے۔ 'پاکستان زندہ باد' کے نعرے کے پیچھے چھپ کر عوام کی زندگی اجیرن کرنے کا نام خدمت نہیں ہے۔ یہ 'مضبوط پالیسی' نہیں بلکہ غریب کو ذلیل و خوار کرنے کا منظم طریقہ ہے۔
— Abdul Basit Sayla (@AbdulBasitSayla) April 2, 2026
وجاہت کاظمی نامی صارف نے لکھا کہ کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ جب پاکستانی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہے تو حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کر رہی ہے؟
Some people are questioning why govt is increasing petrol prices when Pakistani tankers are allowed to pass through Strait of Hormuz.
Passing through Strait of Hormuz doesn’t entitle Pakistan any discounts. We have to buy crude oil at international prices which are very high.
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) April 2, 2026
اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے سے پاکستان کو تیل کی قیمتوں میں کوئی رعایت نہیں ملتی، پاکستان کو بین الاقوامی قیمتوں پر ہی خام تیل خریدنا پڑتا ہے، جو گذشتہ ایک ماہ کے دوران بہت مہنگا ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے وفاقی حکومت نے گذشتہ ایک ماہ کے عرصے کے دوران دوسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل چار مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔









