ایران(ویب ڈیسک) خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس حوالے سے امریکی میڈیا کا کہناہے کہ ایران میں گرائے گئے طیارے کا ملبہ ایف 15 طیارے سے مطابقت رکھتا ہے، سینٹ کام نے ابھی تک طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
طیارے کا ملبہ ایرانی حدود میں گر ا، پائلٹ نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی جبکہ ایرانی میڈیا پر پائلٹ کو زندہ پکڑنے کیلئے انعام کے اعلانات بھی ہوتے رہے۔
ایرانی خبر ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق پائلٹ پاسداران انقلاب کی تحویل میں ہے، پائلٹ کو ڈھونڈنے کیلئے امریکا کے سی ون تھرٹی طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی علاقے میں پروازیں کرتے رہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی پائلٹ کی تلاش کیلئے امریکی فوج کا ریسکیو مشن ناکام ہو گیاہے ، امریکی سی 130 طیارے اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔
بی بی سی کے مطابق خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک اعلان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف 35 جنگی طیارہ ’وسطی ایران کی فضاؤں میں‘ نشانہ بنائے جانے کے بعد ’گر کر تباہ‘ ہو گیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس جنگی طیارے کو ’پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے پر حملے کے وقت اور گرنے کے دوران شدید دھماکے کے باعث اس بات کا امکان کم ہے کہ پائلٹ باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی قیادت کی جانب سے تاحال اس خبر پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کل ایران کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس میں قشم جزیرے کے قریب ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا کہا گیا تھا۔
اس سے تقریباً دو ہفتے قبل بھی ایران نے ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ایک امریکی ایف 35 جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ایران کے اوپر پرواز کے دوران کسی مسئلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ایک اڈے پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا۔









