بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یو اے ای کو رقم واپسی، پاکستان نے سعودی عرب سے مزید مالی سہولت مانگ لی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)یورو بانڈز کی ادائیگیوں اور متحدہ عرب امارات کو رقم کی واپسی کے باعث پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کا چیلنج درپیش ہے، جس کے لیے حکومت مختلف متبادل تجاویز پر غور کر رہی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے تقریباً 5 ارب ڈالر متبادل ذرائع سے حاصل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے سعودی عرب سے مزید ڈپازٹس کی درخواست کی ہے جب کہ مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت کے حجم اور مدت دونوں کو دوگنا کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل، سیاحت، لیدر، فارماسیوٹیکل اور منرلز کے شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

مزید برآں، سعودی عرب کے ساتھ سولر پراجیکٹس میں تقریباً 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور ریلوے کے شعبے میں فنڈنگ کے امکانات پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق سعودی فریق کی جانب سے سرمایہ کاری پر گارنٹی طلب کی گئی ہے، جو پاکستان کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت ممکن نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔

حکومت کا مقصد ایکسٹرنل اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنا ہے، جب کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مرکزی بینک کو مارکیٹ سے ڈالرز خریدنے کی گنجائش بھی حاصل ہے، جیسا کہ مرکزی بینک نے گزشتہ برسوں کے دوران بھی مارکیٹ سے ڈالرز خریدے ہیں۔

حکومت کا ہدف ہے کہ جون 2026 تک ذخائر 18 ارب ڈالر جب کہ دسمبر 2026 تک سوا 20 ارب ڈالر تک پہنچائے جائیں۔