اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان نے افغان ترجمان حمد اللہکے حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں مخصوص اور ہدف کے مطابق تھیں، جن میں صرف شدت پسند عناصر کے ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق ان کارروائیوں سے متعلق معلومات، بشمول اعداد و شمار اور ویڈیوز، باقاعدگی سے جاری کی جاتی ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے رہیں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عالمی سطح پر یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ خطے میں ہونے والی کئی کارروائیوں کے پیچھے مختلف شدت پسند نیٹ ورکس موجود ہیں۔ حکومت نے ڈومیل، بنوں میں ہونے والے حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض عناصر سرحد پار سے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان حکومت کی جانب سے پیش کی گئی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاملے پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں خطے میں سرگرم شدت پسند گروہوں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے صورتحال کی پیچیدگی واضح ہوتی ہے۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ غلط معلومات اور من گھڑت بیانیے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، کیونکہ حقیقت بالآخر سامنے آ کر رہتی ہے۔









