نئی دہلی / واشنگٹن(ویب ڈیسک) بھارت کی دفاعی خریداری اور خارجہ پالیسی سے متعلق ایک متنازع رپورٹ نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں کاروباری شخصیت Anil Ambani اور بدنام امریکی شخصیت Jeffrey Epstein کے درمیان مبینہ روابط کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کی اسرائیل کی جانب پالیسی میں جھکاؤ اور دفاعی معاملات میں بعض فیصلے ایک ایسے غیر رسمی نیٹ ورک کے اثر کے تحت ہوئے، جس میں مختلف عالمی شخصیات اور روابط شامل تھے۔ ان دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے دفاعی خریداری اور سفارتی تعلقات کو مخصوص سمت دینے کی کوشش کی۔
مزید یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ Jeffrey Epstein نے خود کو امریکی بااثر حلقوں تک رسائی رکھنے والا فرد ظاہر کرتے ہوئے مختلف شخصیات کے درمیان روابط استوار کیے، جن میں مبینہ طور پر Anil Ambani بھی شامل تھے۔
رپورٹس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ان روابط کے ذریعے عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے اور اہم ملاقاتوں کے مواقع حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں، جبکہ بعض سفارتی و پالیسی فیصلوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اسی دوران مالیاتی حلقوں میں بھی یہ بات زیر بحث آئی کہ کاروباری سطح پر مشکلات کے دوران مبینہ طور پر بعض غیر روایتی مشاورت فراہم کی گئی، جس نے اس پورے معاملے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ لیک ہونے والی معلومات میں ایسے روابط اور پیغامات کا ذکر ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر رسمی ذرائع استعمال کیے گئے۔ تاہم ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بھارت کی پالیسی سازی بلکہ عالمی سفارتی نظام کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔ فی الحال اس معاملے پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ متعلقہ فریقین کی جانب سے واضح مؤقف کا انتظار کیا جا رہا ہے۔









