واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایک اہم پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے منگل کی رات تک Strait of Hormuz کو عالمی جہاز رانی کے لیے نہ کھولا تو امریکہ مزید سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ صورتحال ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے اور آنے والے گھنٹے انتہائی اہم ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران کو فوری فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ کو 45 روزہ جنگ بندی کی ایک تجویز موصول ہوئی ہے، تاہم اس کے لیے بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں ختم کرے۔
پریس کانفرنس کے دوران Donald Trump نے امریکی فوج کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک حالیہ ریسکیو آپریشن میں متعدد فوجی طیاروں نے حصہ لیا اور عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، جسے انہوں نے بڑی کامیابی قرار دیا۔
صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ جنگی اخراجات کے تناظر میں ایران کے توانائی وسائل کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جبکہ انہوں نے ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش مسترد کرنے پر سخت ردعمل بھی دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب منگل کی اس اہم ڈیڈ لائن پر مرکوز ہیں، جہاں کسی بھی فیصلے کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔









