اسلام آباد(نیوزڈیسک) تجاوزات اور کچی بستیوں کےخلاف آپریشن کے معاملے پر وفاقی وزرا آمنے سامنے آ گئے، وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے تجاوزات کے خلاف بلاتفریق آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا جبکہ وفاقی وزیرپارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آپریشن میں دہرا معیار اپنایا جا رہا ہے، موجودہ کارروائی میں عوام کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ، متاثرین کو متبادل رہائش فراہم کیے بغیر بےدخل کرنا مناسب نہیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا اور کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین ٹو میں نالوں کے اطراف کچی آبادیاں قائم ہو چکی ہیں ۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے جواب دیا کہ اسلام آباد میں 422 ایکڑ زمین سے تجاوزات ختم کرائی گئی ہیں۔ ہم نے صرف کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن نہیں کیا ، پوش سیکٹرز میں بھی بلاتفریق کارروائی کی گئی ہے۔ رمضان کے بعد تجاوزات کے خلاف دوبارہ آپریشن شروع ہوچکا ہے ۔ کوئی کتنا بھی تگڑا ہو تجاوزات اور قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔ رمشا کالونی کے مکین غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں قائم مسلم کالونی کو بھی بغیر کسی امتیاز کے ختم کیا گیا۔
وفاقی وزیر پارلیمانی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا سی ڈی اے کی کارروائی میں عوام کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔ متاثرین کو متبادل رہائش فراہم کیے بغیر بے دخل کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا اسلام آباد ریڈ زون جیسا حساس علاقہ ہے۔ جہاں چند منٹ کے لیے گاڑی کھڑی نہیں ہو سکتی وہاں مستقل طور پر غیر قانونی آبادیاں کیسے قائم ہوئیں؟ کچی آبادیوں کے قیام میں انتظامیہ کے افسران ملوث رہے ہیں ، کیا قبضے کروانے والے افسران کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ۔ دونوں وزرا کے آمنے سامنے آنے پر وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے اٹھ کر مداخلت کی ۔ کہا تجاوزات کے خاتمے کے لیے منصفانہ اور بلا امتیاز میکنزم ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔









