بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دھرندھر ٹو کی ٹیم نے ممبئی کی مارکیٹ کو پاکستان کا لیاری کیسے بنایا؟

بولی وڈ کی بلاک بسٹر فلم ’دھُرندھر 2‘ کی کامیابی صرف آن اسکرین اداکاروں کے مرہون منت نہیں ہے ، بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والی ٹیم کی شب وروز محنت نے بھی فلم کی شان میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر فلم کے ایڈیشنل پروڈکشن ڈیزائنر روپن سچک نے اس فلم کے مہنگے اور سب سے چیلنجنگ مناظر ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

روپن سچک نے این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ڈائریکٹر آدتیہ دھر کے ساتھ مل کر فلم کے سب سے اہم مناظر ڈیزائن کیے۔

سچک پروڈکشن ڈیزائنر سینی ایس جوہری کے جانے کے بعد اس پروجیکٹ میں شامل ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پہلا حصہ کسی اور پروڈکشن ڈیزائنر کے ذریعے مکمل ہوا تھا، لیکن وہ دوسرے حصہ پر کام جاری نہ رکھ سکے۔ ہم نے ہینڈ اوور لے کر دوسرے حصے کی شوٹنگ شروع کی، کیونکہ یہ دونوں حصوں کا مرکب تھا۔‘

فلم، جس پر تقریباً 280 کروڑ بھارتی روپے خرچ ہوئے، بینکاک، تھائی لینڈ اور بھارت کے شہروں ممبئی، چندی گڑھ اور امرتسر میں شوٹ کی گئی۔

فلم میں کراچی کے مشہور علاقے لیاری کے مناظر کے لیے چھ ایکڑ پر محیط سیٹ بنایا گیا، جو فلم کے مہنگے ترین اور سب سے پیچیدہ سیٹوں میں سے ایک تھا۔


اسی طرح ارجن رامپال کے باتھ ٹب والے مناظر اور سنجے دت کے ایمبولینس والے سین بھی فلم سٹی میں خصوصی طور پر تیار کردہ سیٹوں پر فلمائے گئے۔

روپن سچک نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ٹیم نے فلم کے کچھ مناظر کسی اور مقام پر شوٹ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن تکنیکی اور اجازت سے متعلق مسائل کے باعث وہ وہاں کام جاری نہ رکھ سکے۔ نتیجتاً، پورا سین فلم سٹی، ممبئی میں ترتیب دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم نے تاریخی بوہرا بازار، جو چترپتی شیو جی مہاراج ٹرمینس کے قریب واقع ہے، کو پاکستان کی شکل دینے میں کامیابی حاصل کی۔ ’ہم نے کچھ مناظر لائیو لوکیشن پر شوٹ کیے اور لوگ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز دیکھ چکے ہیں جن میں ٹیم کام کرتے دکھائی دی۔‘

سچک نے بتایا، ’فلم کا سب سے بڑا چیلنج ممبئی کے تاریخی اور انتہائی مصروف علاقے بوہرا بازار (نزد سی ایس ایم ٹی) کو پاکستان کے ایک شہر میں تبدیل کرنا تھا۔‘

انہوں نے کہا، ’چونکہ یہ ایک چلتا پھرتا کاروباری مرکز ہے، اس لیے ٹیم کو صرف اتوار کے دن شوٹنگ کی اجازت ملی۔ چند ہی گھنٹوں میں پورے بازار کا نقشہ بدل کر اسے پاکستانی رنگ روپ دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وقت کی کمی نے کام کو مشکل بنایا، لیکن اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ ہم نے ہر منظر کو کامیابی سے مکمل کیا اور یہ سب ڈائریکٹر آدتیہ دھَر کے وژن اور ٹیم کی محنت کی بدولت ممکن ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے کچھ اہم مناظر ریلیز سے محض چند دن پہلے شوٹ کیے گئے۔

روپن نے بتایا، ’ڈائریکٹر آدتیہ دھر کہانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کی ہدایت تھی کہ کچھ مناظر کو دوبارہ یا نئے سرے سے فلمایا جائے تاکہ کہانی مزید جاندار ہو سکے اور ہم نے وقت کے خلاف دوڑ لگا کر اسے مکمل کیا۔‘

روپن سوچک جو اس سے قبل ’پیڈ مین‘ اور ’ڈیئر زندگی‘ جیسی فلموں پر کام کر چکے ہیں، اب رشبھ شیٹی کے ساتھ اپنی اگلی بڑی فلم ’چھترپتی شیواجی مہاراج‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔۔