اسلام آباد(نیوزڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دس اپریل کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے پہلے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ان کی طرف سے پیش کردہ اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویزپر رضامندہوگئی تھیں تاہم اس وقت کی حکومت کے نارض اتحادی خالد مگسی‘ شاہ زین بگٹی اور ایم کیو ایم اس پر رضامند نہ ہوئیں ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے ذریعے اپوزیشن کو 7 اپریل کو عدم اعتماد واپس لینے اور بدلے میں قومی اسمبلی توڑنے کی پیش کش کی تھی‘ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اسلام آباد کے میس میں اپوزیشن کو ساڑھے پانچ گھنٹے سمجھایا تھا جس پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی پارٹی رضامند ہوگئی تھیں لیکن خالد مگسی‘ شاہ زین بگٹی اور ایم کیو ایم نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
خالد مگسی کا موقف تھا کہ میں بلوچستان کا بڑا زمین دار ہوں‘ میں لاکھوں ایکڑ کا مالک ہوں لیکن عمران خان نے مجھے کبھی عزت نہیں دی لہٰذا میں اس کی کوئی پیشکش نہیں مانوں گا۔
شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان میرا نام تک نہیں جانتے ۔جبکہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا ہمیں کراچی میں اپنا مینڈیٹ واپس لینے کے لیے وقت چاہیے اور یوں ن لیگ حکومت بنانے پر مجبور ہو گئی۔
عدم اعتمادسے پہلے پی پی ،ن لیگ اسمبلی توڑنے کی تجویزپر متفق،خالدمگسی،شاہ زین ،متحدہ نے بات نہ مانی








